کسی پہ دل لٹانا ہے کسی پہ جاں لٹانی ہے
Poet: UA By: UA, Lahoreاب ایک تسلسل ہے اب ایک روانی ہے
اب رواں دواں اپنے جیون کی کہانی ہے
سمندروں کی لہریں سر اٹھا کے کہتی ہیں
سکوت بحر میں طوفان ہے طغیانی ہے
برف پگھل کے اپنا راستہ بناتی گئی
جمود نے بھی تحرک کی قدر جانی ہے
حیات مختصر اور مستقل قیام کی باتیں
کہ زندگی کی یہ ڈگر تو آنی جانی ہے
طویل عمر پانے والے بھی یہ کہتے رہے
بڑی ہی مختصر یہ اپنی زندگانی ہے
حیات خضر پانے والوں کو بھی جانا ہے
آخر حیات خضر کو بھی ہونا فانی ہے
وہ دیکھو وادی جنوں کی ہواؤں کا رخ
کہ اس کی چال ڈھال آج بھی طوفانی ہے
سنہری جھیل میں رنگین تتلیوں کی شبیہ
ذرا قریب سے دیکھو بڑی سہانی ہے
خودی اور بیخودی کے درمیاں تنہا سی اک لڑکی
کوئی کہتا ہے دانا ہے کوئی کہتا دیوانی ہے
کوئی تحریک نہ سفر، نہ کوئی جستجو
اگرچہ اپنی زندگی زمانی ہے مکانی ہے
پہلے ہاتھ ملانا پھر نظریں چرا کے چل دینا
ادا جدید سہی رسم یہ پرانی ہے
یہ کیا دستور ہے دنیا میں اہل شوق کا عظمٰی
کسی پہ دل لٹانا ہے کسی پہ جاں لٹانی ہے
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






