کسی کو الوداع کہنا بہت تکلیف ہوتی ہے
Poet: Mohammed Masood By: Mohammed Masood , Meadows nottingham ukکسی کو الوداع کہنا
دیکھائی کچھ نہیں دیتا
سنائی کچھ نہیں دیتا
فقط کچھ
کپکپاتے الفاظ
جو ہونٹوں پر
ٹھہر جائیں
بہت تکلیف دیتا ہے
کسی کو الوداع کہنا
دیکھائی کچھ نہیں دیتا
سنائی کچھ نہیں دیتا
فقط کچھ
کپکپاتے الفاظ
ٹھہر جائیں
ابھرتی ڈوبتی دھڑکن اسے آواز دیتی ہے
کوئی اپنا کہ جس کا نام
اپنے دل میں لکھا ہو
کہ
جس کے واسطے
دل سے
دعائیں ہی نکلتی ہیں
تب تک
ابھرتی ڈوبتی دھڑکن
اسے آواز دیتی ہے
کہ
کوئی اپنا کہ جس کا نام
اپنے دل میں لکھا ہو
کہ
جس کے واسطے
دل سے
دعائیں ہی نکلتی ہیں
اس کو الوداع کہنا
جو دل میں بسا ہو
بڑے ہی من سے جس کو
کبھی اپنا بنایا ہو
بہت تکلیف دیتا ہے
اس کو الوداع کہنا
بہت تکلیف دیتا ہے
اسی کو الوداع کہنا
جو دل میں بسا ہو
بڑے ہی من سے جس کو
کبھی اپنا بنایا ہو
بہت تکلیف دیتا ہے
اس کو الوداع کہنا
بہت تکلیف دیتا ہے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






