شکیل بدایونی کی شاعری سے انتخاب

Poet: Shakeel Badayuni By: Iram, Lahore

ہر قدم ذحمتیں ہر قدم الجھنیں زندگی وقف ہے درد سر کے لئے
پہلے اپنے ہی درماں کا غم تھا ہمیں اب دوا چاہئیے چارہ گر کے لئے

آج ایک اجنبی سے نگاہیں ملیں صرف اک لمحہ مختصر کے لئے
زندگی اس طرح مطمئں ہو گئی جیسے کچھ پا لیا عمر بھر کے لئے

میں نے بخشی ہے تاریکیوں کو ضیا اور خود اک تجلی کا محتاج ہوں
روشنی دینے والے کو بھی کم سے کم اک دیا چاہئیے اپنے گھر کے لئے

اے شکیل ان کی محفل میں بھی کیا ملا اور کچھ بڑھ گئیں دل کی بیتابیاں
ہرکہ جانب رہی وہ نگاہ کرم ہم ترستے رہے اک نظر کے لئے


نوٹ: شکیل بدایونی اپنے وقت کے بہترین نغمہ نگار اور غزل گو شاعر تھے۔ ان کا نام شعری دنیا میں آج بھی نہایت احترام سے لیا جاتا ہے۔اللہ ان کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔آمین

Rate it:
Views: 2798
08 Jun, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL