کشمیر پوچھتا ہے کشمیر کہہ رہا ہے
Poet: wasim ahmad moghal By: wasim ahmad moghal, lahoreجنت کی اِس جبیں سے کیوں خون بہہ رہا ہے
کشمیر پوچھتا ہے کشمیر کہہ رہا ہے
جنت میں کفر ظالم کیوں تن کے رہ رہا ہے
کشمیر کا مسلماں کیوں ظلم سہہ رہا ہے
انسانیت کہاں ہے انسان پوچھتا ہے
وہ جو خوں میں ہے لت پت مسلمان پوچھتا ہے
راوی چناب جہلم کیوں سرخ ہو رہے ہیں
وہ وا دی اور نیلم کیوں سرخ ہو رہے ہیں
اے قوم ابنِ قاسم کیا سو رہے ہیں اب تک
اے قوم تیرے ہاشم کیا سو رہے ہیں اب تک
ماں اور بیٹیوں کی عزت پکارتی ہے
کشمیریوں کے خوں کی عظمت پکارتی ہے
بہنوں کے سر کی چادر دشمن کے ہاتھ میں ہے
اِن کا حسین پیکر دشمن کے ہاتھ میں ہے
ساتھی جو تھے ہمارے کیا مر گئے ہیں یارو
اہلِ ضمیر سارےکیا مر گئے ہیں یارو
کوئی تو ہو جہاں میں جو ظلم کو مٹائے
ظالم کا ہاتھ توڑے مظلوم کو بچائے
اُٹھو جہادیوں تم کشمیر کو بچاؤ
آپس میں لڑنے والو اب تم بھی باز آؤ
کوئی تو ظلمتوں میں روشن کرے دیوں کو
امید کی کرن سے گرمائے جو دلوں کو
کچھ تو سپوت میرے قربان ہو گئے ہیں
اور کچھ ستم کو سہتے ہلکان ہو گئے ہیں
یاں جذبہ ہمتوں کا کیا کم ہوا کسی کا
یاں جذبہ جراتوں کا کیا کم ہوا کسی کا
یا سر مرے اے یارو کیا خم ہوا کسی کا
کشمیر پوچھتا ہے کشمیر کہہ رہا ہے
کسی کی بزمِ ناز سے اٹھا دیئے گئے تو کیا
خلوص کا مزہ گیا، دہی بنا ہے پیار کا
کسی نے کھو دیا کسی کو لا دیئے گئے تو کیا
ہمیں ذرا بھی خوف سا رہا نہیں ہے خار کا
ہٹا دیئے گئے تو کیا، بچھا دیئے گئے تو کیا
ستم تو دیکھیے ہمیں مہک پہ دست رس نہیں
اسیرِ زلفِ یار بھی بنا دیئے گئے تو کیا
ملی حیات کو نجات کل کی تیرگی سے تو
وفا کی راہ میں ہزار ہا دیّے گئے تو کیا
ہمیں کمالِ ضبط بھی عطا کِیا گیا تو ہے
ستم، ستم کے بعد ہم پہ ڈھا دیئے گئے تو کیا
ملی اگر خوشی کبھی لگا کہ بھول سے ملی
تعاقبوں میں اس پہ غم لگا دیئے گئے تو کیا
کبھی تو ایک دن الگ رہے تو زیست بار تھی
نہ تھے جو بیچ فاصلے بڑھا دیئے گئے تو کیا
رشیدؔ رفعتوں میں ہے کوئی جو دیکھتا ہے سب
گئے دنوں کے درد پھر جگا دیئے گئے تو کیا
مگر میرے پاؤں میں بیڑیاں خاندانی حرمت کی ہیں۔
دل کو قفس سے آزاد کرتے ہوئے، میرے ستمگر کو یہ خیال نہ رہا،
کہ شاید دل میں محبت کی رمق اب بھی باقی ہے۔
میرے بیزارِ محبت کو گمان ہے میرے دل کے کارآمد ہونے پر،
وار اسی لیے وہ کرتا ہے میرے آرامیدہ ہونے پر۔
ہنر ہے میرا کہ میں نے اس کو اب تک سنوار کر رکھا ہے،
ورنہ یہ زخمی و آزردہ دل کب کا مر چکا ہے۔
دل کو اب تک وہ محبت کا فسانہ یاد ہے
وہ گلی وہ شام وہ چہرے وہ ہنسی کے قافلے
آج بھی آنکھوں کو سب کچھ دل کا افسانہ یاد ہے
وقت کی آندھی نے سب نقش مٹا ڈالے مگر
دل کی دیواروں پہ تیرا وہ ٹھکانہ یاد ہے
ہم نے سوچا تھا کہ بھولیں گے تجھے اک دن کبھی
پر ہمیں ہر موڑ پر تیرا بہانہ یاد ہے
کچھ تعلق وقت کے ہاتھوں بچھڑ جاتے ہیں مگر،
دل کو ہر رشتہ، ہر اک گزرا زمانہ یاد ہے
اب بھی تنہائی میں جب چاند نکل آتا ہے
تیری باتوں کا وہ پیارا سا خزانہ یاد ہے
زندگی آگے تو بڑھتی ہی رہی مسعود مگر
دل کو بچپن دل کو وہ گزرا زمانہ یاد ہے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم






