کشمیر کے گلشن میں بے وقت خزان آئی
Poet: Habibullah Khiyal By: habib ganchvi, Islamabadکچلی ہے جبیں کس نے کشمیر کے گلشن کی
اور کیوں مرے گلشن میں بے وقت خزان آئی
کشمیر کے گلشن میں بے وقت خزان آئی
باغبان نے سجایاتھا گلشن کو گلابوں سے
افسوس کوئی آفت چپکے سے یہاں آئی
کشمیر کے گلشن میں بے وقت خزان آئی
پھولوں نے نہ چوما تھا ہنس کر کبھی شبنم کو
نازک تیری کلیوں سے آواز فغان آئی
کشمیر کے گلشن میں بے وقت خزان آئی
رنگوں سے بھری صبحیں خوشیاں بھری شامیں ہوں
ایسی کوئی ساعت اس گھر میں کہاں آئی
کشمیر کے گلشن میں بے وقت خزان آئی
تتلیوں کی رنگوں سے اٹھکیلیوں کا موسم تھا
خوشبو کی چاہت کیوں موت بن کے یہاں آئی
کشمیر کے گلشن میں بے وقت خزان آئی
خون رنگ حنا بن کر ہاتھوں میں اُتر آیا
پھر شومئی قسمت بھی دھرلے سے یہاں آئی
کشمیر کے گلشن میں بے وقت خزان آئی
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






