زخمی دل
Poet: SALAMAT SHAKIR By: salamat shakir, sahiwalزخمی دل کے پہلو میں ہر زخم سنبھالا کرتے ہیں
آستین کے سانپوں کو اس طرز مٰیں پالا کرتے ہیں
آیا جایا کرتے ہیں ممنوع گلی میں پے در پے
تیری خاطر زندگی کو خطروں میں ڈالا کرتے ہیں
روز تو کھڑا کرتا ہے ہمرازوں کے آگے مجھ کو
دیکھنے والے ڈھیروں مجھ میں نقص نکالا کرتے ہیں
کھل اٹھتے ہیں تیری اک مسکان پہ پھول ہزاروں
میرے آنسو میرے غم کو اور دوبالا کرتے ہیں
نصیب کے ان اندھیروں کو کرن تک نصیب نہ ہوئ
غیر کے سرے محل میں وہ سر شام اجالا کرتے ہیں
دل کو نا منظور ہے شاکر پھر بھی ان کا رسوا ہونا
بے شک میری پگڑی وہ شب و روز اچھالا کرتے ہیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






