زخمی دل

Poet: SALAMAT SHAKIR By: salamat shakir, sahiwal

زخمی دل کے پہلو میں ہر زخم سنبھالا کرتے ہیں
آستین کے سانپوں کو اس طرز مٰیں پالا کرتے ہیں

آیا جایا کرتے ہیں ممنوع گلی میں پے در پے
تیری خاطر زندگی کو خطروں میں ڈالا کرتے ہیں

روز تو کھڑا کرتا ہے ہمرازوں کے آگے مجھ کو
دیکھنے والے ڈھیروں مجھ میں نقص نکالا کرتے ہیں

کھل اٹھتے ہیں تیری اک مسکان پہ پھول ہزاروں
میرے آنسو میرے غم کو اور دوبالا کرتے ہیں

نصیب کے ان اندھیروں کو کرن تک نصیب نہ ہوئ
غیر کے سرے محل میں وہ سر شام اجالا کرتے ہیں

دل کو نا منظور ہے شاکر پھر بھی ان کا رسوا ہونا
بے شک میری پگڑی وہ شب و روز اچھالا کرتے ہیں

Rate it:
Views: 932
06 Mar, 2017
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL