کل کہیں تجھ سے بھی اچھا ترا بیمار نہ ہو
Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIکل کہیں تجھ سے بھی اچھا ترا بیمار نہ ہو
اتنے سنگین تغافل کا گنہ گار نہ ہو
زندگی میں بھی سکوں ڈھونڈتے ہو دیوانو
زندگی کیا ہے جو چلتی ہوئی تلوار نہ ہو
آپ کی بات کے مفہوم کئی ہوتے ہیں
آپ کی ہاں کہیں ہم معنئ انکار نہ ہو
رات تو نصف سے زائد ہے مگر ڈر یہ ہے
اس گئے وقت بھی درباں کہیں بیدار نہ ہو
برہمی میں جو حلاوت ہے سجاوٹ میں کہاں
زلف ہی کیا ہے جو آشفتہ و خم دار نہ ہو
شمع میں کیا ہے جو دیتا ہے پتنگے کو فریب
اس کے پردے میں ترا شعلۂ رخسار نہ ہو
خلق رک جائے گی ناگاہ تماشے کے لئے
مجھ سے اس درجہ خفا برسر بازار نہ ہو
دل کو لے آتا ہوں بازار سے واپس ہر روز
اس طرح کا بھی عدم قحط خریدار نہ ہو
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






