ﻭﻓﺎ ﮐﮯ ﻗﯿﺪ ﺧﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﺰﺍﺋﯿﮟ ﮐﺐ ﺑﺪﻟﺘﯽ ﮨﯿﮟ

Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

ﻭﻓﺎ ﮐﮯ ﻗﯿﺪ ﺧﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﺰﺍﺋﯿﮟ
ﮐﺐ ﺑﺪﻟﺘﯽ ﮨﯿﮟ
ﺑﺪﻟﺘﺎ ﺩﻝ ﮐﺎ ﻣﻮﺳﻢ ﮨﮯ ﮨﻮﺍﺋﯿﮟ ﮐﺐ
ﺑﺪﻟﺘﯽ ﮨﯿﮟ
ﻟﺒﺎﺩﮦ ﺍﻭﮌﮪ ﮐﮯ ﻏﻢ ﮐﺎ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺗﮯ
ﮨﯿﮟ ﺻﺤﺮﺍ ﮐﻮ
ﺟﻮﺍﺏ ﺁﺋﮯ ﮐﮧ ﻧﮧ ﺁﺋﮯ، ﺻﺪﺍﺋﯿﮟ
ﮐﺐ ﺑﺪﻟﺘﯽ ﮨﯿﮟ
ﺳﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﺩﮬﻮﭖ ﮨﮯ ﻏﻢ ﮐﯽ
ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻭﺧﺸﺘﯿﮟ ﮐﺘﻨﯽ،
ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺩﻝ ﮐﮯ ﺻﮩﺮﺍ ﮐﯽ
ﻓﻀﺎﺋﯿﮟ ﮐﺐ ﺑﺪﻟﺘﯽ ﮨﯿﮟ،
ﻣﯿﺮﯼ ﺳﺎﺭﯼ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﺗﻢ ﺳﮯ ﮨﯽ
ﻣﻨﺴﻮﺏ ﮨﯿﮟ ﺟﺎﻧﺎﮞ
ﻣﺤﺒﺖ ﮨﻮ ﺍﮔﺮ ﺳﭽﯽ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﮐﺐ
ﺑﺪﻟﺘﯽ ﮨﯿﮟ
ﮐﻮﺋﯽ ﭘﺎ ﮐﺮ ﻧﺒﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ، ﮐﻮﺋﯽ
ﮐﮭﻮ ﮐﺮ ﻧﺒﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ
ﻧﺌﮯ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﻓﺎﺋﯿﮟ ﮐﺐ
ﺑﺪﻟﺘﯽ ﮨﯿﮟ

 

Rate it:
Views: 3094
13 Nov, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL