کوئ تو پوچھے کہ وہ کیوں اداس رہتا ہے
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiکوئ تو پوچھے کہ وہ کیوں اداس رہتا ہے
وفا کے شہر میں جو بےلباس رہتا ہے
بتاۓ بھولی ہوئ یار کی مجھے صورت
جو میرے شہر میں چہرہ شناس رہتا ہے
ہے محفلوں میں مری گفتگو کا مرکز تو
بس ایک تو ہی مرا اقتباس رہتا ہے
تجھی کو سوچتے رہنا ہے زندگی میری
تو ہی امید مری تو قیاس رہتا ہے
وہ اور کوئ نہیں جان جاں تمہارے بن
جو شخص دل میں مرے بن کے آس رہتا ہے
یہ کیسا روگ لگایا ہے تو نے دل کو مرے
تمہارے بعد بہت بےحواس رہتا ہے
میں چھپ کے بھی تو نیا پیار کر نہیں سکتا
ترا خیال جو دن رات پاس رہتا ہے
مرے خدا تو فقیروں کو جیسے حال میں رکھ
ہمارے لب پہ تو حرف سپاس رہتا ہے
مری کمی جو اسے ہونے ہی نہیں دیتا
کوئ تو میرا یہاں التباس رہتا ہے
کوئ تو پوچھتا باقرؔ کبھی یہ مجھ سے بھی
کہ رات دن تو بھلا کیوں اداس رہتا ہے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






