اب مرا نام بھی آۓ تو بگڑ جاتا ہے
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiاب مرا نام بھی آۓ تو بگڑ جاتا ہے
اتنا خائف ہے کہ خود سے بھی وہ لڑ جاتا ہے
اب بھلا کیسے منانے اسے جاؤں گا میں
کس کی سنتا ہے بھلا ضد پہ جب اڑ جاتا ہے
تجھ کو معلوم کہاں ہے کہ وہ مہتاب سخن
چھوڑ جاۓ تو مرا شہر اجڑ جاتا ہے
اس کو بتلاؤ کہ ہم اس کے بنا ہیں ایسے
جیسے کہ شاخ سے پتہ کوئ جھڑ جاتا ہے
ایسا جادو سا کیا ہے کوئ دل پر اس نے
جب اسے دیکھ لے دل سوچ میں پڑ جاتا ہے
سوچتا ہوں کہ بڑا ہو کے بنے گا کیا وہ
جو کہ بچپن سے ہی ہر بات پہ اڑ جاتا ہے
ایک دن اس کو بھی تڑپاۓ گی یوں میری کمی
جیسے پانی کے بنا پھول سکڑ جاتا ہے
تو نے مالک مری قسمت میں یہ کیوں عیب لکھا
مجھ کو جو شخص بھی بھاتا ہے بچھڑ جاتا ہے
اس کو مجھ سے تو محبت بھی نہیں ہے باقرؔ
کیوں مرے نام پہ ہر شخص سے لڑ جاتا ہے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






