اب مرا نام بھی آۓ تو بگڑ جاتا ہے

Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachi

اب مرا نام بھی آۓ تو بگڑ جاتا ہے
اتنا خائف ہے کہ خود سے بھی وہ لڑ جاتا ہے

اب بھلا کیسے منانے اسے جاؤں گا میں
کس کی سنتا ہے بھلا ضد پہ جب اڑ جاتا ہے

تجھ کو معلوم کہاں ہے کہ وہ مہتاب سخن
چھوڑ جاۓ تو مرا شہر اجڑ جاتا ہے

اس کو بتلاؤ کہ ہم اس کے بنا ہیں ایسے
جیسے کہ شاخ سے پتہ کوئ جھڑ جاتا ہے

ایسا جادو سا کیا ہے کوئ دل پر اس نے
جب اسے دیکھ لے دل سوچ میں پڑ جاتا ہے

سوچتا ہوں کہ بڑا ہو کے بنے گا کیا وہ
جو کہ بچپن سے ہی ہر بات پہ اڑ جاتا ہے

ایک دن اس کو بھی تڑپاۓ گی یوں میری کمی
جیسے پانی کے بنا پھول سکڑ جاتا ہے

تو نے مالک مری قسمت میں یہ کیوں عیب لکھا
مجھ کو جو شخص بھی بھاتا ہے بچھڑ جاتا ہے

اس کو مجھ سے تو محبت بھی نہیں ہے باقرؔ
کیوں مرے نام پہ ہر شخص سے لڑ جاتا ہے
 

Rate it:
Views: 544
13 May, 2016
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL