کٹوتی ہے
Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, کوئٹہلکیریں بولتی ہیں اور زباں ریکھا کی ہوتی ہے
ملیں خوشیاں بہت کم اور پھر ان میں کٹوتی ہے
بتایا بھی کہ لوگوں سے نہ کر ہمدردیاں اتنی
کمر جھکتی چلی جائے جو بوجھ اوروں کا ڈھوتی ہے
گلاب اس کے حسیں رخسار سے رنگت چراتے ہیں
سحر انگیز آنکھوں میں فروزاں کوئی جوتی ہے
بہت بے ساختہ منظر نظر میں گھوم جاتے ہیں
تمہاری یاد پھر آنکھوں کو دھیرے سے بھگوتی ہے
بجھی ہے اس کی آنکھوں میں گئی شاموں کی سفّاکی
مرے دل کی زمیں پر ہجر کے جو بیج بوتی ہے
جنہیں رد کر چکے تھے ہم وہی ہیں راجدھانی پر
جہاں کی تھی یہ کھوتی پھر وہیں پر آ کھلوتی ہے
فرنگی بن کے بیٹھے ہیں، عجب ملبوس ان کے ہیں
بنیں جتنا بھی یہ بابو مگر پہچان دھوتی ہے
کسی مورت کی صورت وہ بسے ہے من کے مندر میں
جو میرے جاگنے پر جاگتی، سونے پہ سوتی ہے
رشیدؔ اک آرزو سینے میں ہے بے چین روحوں سی
مرے کاندھے پہ سر رکھ کر بلکتی ہے، جو روتی ہے
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






