کٹوتی ہے
Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, کوئٹہلکیریں بولتی ہیں اور زباں ریکھا کی ہوتی ہے
ملیں خوشیاں بہت کم اور پھر ان میں کٹوتی ہے
بتایا بھی کہ لوگوں سے نہ کر ہمدردیاں اتنی
کمر جھکتی چلی جائے جو بوجھ اوروں کا ڈھوتی ہے
گلاب اس کے حسیں رخسار سے رنگت چراتے ہیں
سحر انگیز آنکھوں میں فروزاں کوئی جوتی ہے
بہت بے ساختہ منظر نظر میں گھوم جاتے ہیں
تمہاری یاد پھر آنکھوں کو دھیرے سے بھگوتی ہے
بجھی ہے اس کی آنکھوں میں گئی شاموں کی سفّاکی
مرے دل کی زمیں پر ہجر کے جو بیج بوتی ہے
جنہیں رد کر چکے تھے ہم وہی ہیں راجدھانی پر
جہاں کی تھی یہ کھوتی پھر وہیں پر آ کھلوتی ہے
فرنگی بن کے بیٹھے ہیں، عجب ملبوس ان کے ہیں
بنیں جتنا بھی یہ بابو مگر پہچان دھوتی ہے
کسی مورت کی صورت وہ بسے ہے من کے مندر میں
جو میرے جاگنے پر جاگتی، سونے پہ سوتی ہے
رشیدؔ اک آرزو سینے میں ہے بے چین روحوں سی
مرے کاندھے پہ سر رکھ کر بلکتی ہے، جو روتی ہے
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






