کچھ الفاظ ہوتے ہیں وہ بولے نہیں جاتے
Poet: Imran Nazeer By: Imran Nazeer, Gujranwalaکچھ الفاظ ہوتے ہیں
وہ بولے نہیں جاتے
کہ ان کی ھیبت سے
زباں لرز جاتی ہے
وہ لکھنے میں نہیں آتے
کہ ہاتھ کانپ اٹھتے ہیں
کہیں آنکھوں کی بصیرت ہی
زائل نہ کر دیں یہ
اسی ڈر سے یہ پڑھنے میں نہیں آتے
کانوں کی سماعت کو بھی
ان سے ہی خطرہ ہے
ان کو سننے کی حماقت نہ کرنا تم
یہ آنکھیں بول دیتی ہیں
ماتھے پہ لکھی تحریریں
ہم دل سے پڑھتے ہیں
وہ سب درد ہوتے ہیں
دل جو ان کو پڑھ لیں
وہ تو پسیج جاتے ہیں
اثر یہ گہرا رکھتے ہیں
ہوتے ہیں بڑے تکلیف دہ یہ
کبھی یہ جان تک لے کر
اک داستان بناتے ہیں
یہ ان کہے الفاظ
بہت کچھ کہتے ہیں
بڑے مطلب رکھتے ہیں
اس مطلبی دنیا کو
ان کی سمجھ نہیں آتی
اگر یہ جان جائیں تو
جان سے ہی جائیں گے
کیسے زندہ رہ پائیں گے
یہ لفظ تو ان کو نوچ کھائیں گے
تبھی تو یہ کہے نہیں جاتے
لکھے نہیں جاتے
پڑھے نہیں جاتے
سنے نہیں جاتے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






