ادھوری محبت

Poet: Imran Nazeer By: Imran Nazeer, Gujranwala

نظر جو اٹھائی تو سیدھا تیر ہی چلایا ہے
بڑے شوق سے ہم نے بھی زخم یہ کھایا ہے

بمشکل ہی تو پہنچا تھا تیری چوکھٹ تک
دکھا کر جام تم نے مجھے بس پھسایا ہے

یوں پوچھتے ہیں گھر والے مرے مجھ سے
بتاؤ تو ذرا تم پر یہ کس آسیب کا سایہ ہے

کہاں غائب رہتے ہو؟ کوئی نیا ٹھکانہ ہے؟
وہ کون ہے ؟تمہیں جس نے یوں اپنا بنایا ہے

اس نازنیں سے کبھی ہمیں بھی ملاؤ نا
جس نے چپکے سے تمہیں ہم سے چرایا ہے

کیا تھا وعدہ کہ اک دن ان کو میں بتاؤں گا
رشتہ دیکھنے جو انہوں نے مجھے آج بلایا ہے

کیا ان کو بتاؤں اب، ہے میخانہ مرا مسکن
تھوڑا سا ہنسا کر مجھے کتنا اس نے رلایا ہے

تمہارے لیئے ساتھ چلنا جو تھا ناممکن
تو کیوں ہر قدم پہ مجھے تم نے آزمایا ہے

ہاتھ تم سے ملایا تھا محبت میں عمراؔن
یہ شاہرگ پر کیوں خنجر تمہی نے چلایا ہے

Rate it:
Views: 1340
17 Mar, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL