کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
Poet: Arshid Malik By: Abdul Waheed(Muskan), Haripurجب ہجر کی آگ جلاتے ہیں،کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
آنکھوں میں راکھ سجاتے ہیں،کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
موسم کے رنگ بدلتے ہیں، لہرا کے جھونکے آتے ہیں
شاخوں سے بور اُٹھاتے ہیں،کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
یادوں کی گرم ہواؤں سے، آنکھو کی کلیاں جلتی ہیں
جب آنسو درد بہاتے ہیں، کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
بے درد ہوائیں سہ سہکر، سورج کے ڈھلتے سایوں میں
جب پنچھی لوٹ کے آتے ہیں،کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
جب لوگ جہاں بھر کے قصوں میں دم بھر کا موقع ملتے ہی
لفظوں کے تیر چلاتے ہیں، کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
یہ عشق محبت کچھ بھی نہیں، فرصت کی کارستانی ہے
جو لوگ مجھے سمجھاتے ہیں،کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
جب کالے بادل گھِر آئیں اور بارش زور کی ہوتی ہو
دروازے شور مچاتے ہیں، کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
جب آنگن مین خاموشی اپنے ہونٹ پہ اُنگلی رکھتی ہے
سناٹے جب در آتے ہیں، کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
جب سرد ہوا کا بستر ہو اور یاد سے اُس کی لپٹے ہوں
تب نغمہ سا لہراتے ہیں، کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
جب اوس کے قطرے پھولوں پر کچھ موتی سے بن جاتے ہیں
تب ہم بھی اشک بہاتے ہیں، کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
ہم یاد میں بس گُم رہتے ہیں، اور چاند کو تکتے رہتے ہیں
تاروں سے بات چھپاتے ہیں، کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






