کیا کسی کو شمع کی طرح جلتے دیکھا ہے
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaکیا کسی کو شمع کی طرح جلتے دیکھا ہے
اگر نہیں دیکھا تو مجھے دیکھ لو
کیا کسی کو کانٹوں پے چلتا دیکھا ہے
اگر نہیں دیکھا تو مجھے دیکھ لو
کیا کسی کو اندھرے میں روتے دیکھا ہے
اگر نہیں دیکھا تو مجھے دیکھ لو
کیا کسی کوتنہائیوں میں بات کرتے دیکھا ہے
اگر نہیں دیکھا تو مجھے دیکھ لو
کیا کسی کوخود سے لڑتے دیکھا ہے
اگر نہیں دیکھا تو مجھے دیکھ لو
کیا کسی کوشیشے کی طرح ٹوٹتے دیکھا ہے
اگر نہیں دیکھا تو مجھے دیکھ لو
کیا کسی کو غموں میں مسکراتے دیکھا ہے
اگر نہیں دیکھا تو مجھے دیکھ لو
کیا کسی کو باتھوں سے لکیر مٹاتے دیکھا ہے
اگر نہیں دیکھا تو مجھے دیکھ لو
کیا کسی کو اپنی خوشیاں لوٹاتے دیکھا ہے
اگر نہیں دیکھا تو مجھے دیکھ لو
کیا کسی کو کسی کہ لیے دنیا بھلاتے دیکھا ہے
اگر نہیں دیکھا تو مجھے دیکھ لو
کیا کسی کو اپنے خواب جلاتے دیکھا ہے
اگر نہیں دیکھا تو مجھے دیکھ لو
کیا کسی کو زندگی سے بھاگتے دیکھا ہے
اگر نہیں دیکھا تو مجھے دیکھ لو
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






