کیا کسی کو شمع کی طرح جلتے دیکھا ہے
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaکیا کسی کو شمع کی طرح جلتے دیکھا ہے
اگر نہیں دیکھا تو مجھے دیکھ لو
کیا کسی کو کانٹوں پے چلتا دیکھا ہے
اگر نہیں دیکھا تو مجھے دیکھ لو
کیا کسی کو اندھرے میں روتے دیکھا ہے
اگر نہیں دیکھا تو مجھے دیکھ لو
کیا کسی کوتنہائیوں میں بات کرتے دیکھا ہے
اگر نہیں دیکھا تو مجھے دیکھ لو
کیا کسی کوخود سے لڑتے دیکھا ہے
اگر نہیں دیکھا تو مجھے دیکھ لو
کیا کسی کوشیشے کی طرح ٹوٹتے دیکھا ہے
اگر نہیں دیکھا تو مجھے دیکھ لو
کیا کسی کو غموں میں مسکراتے دیکھا ہے
اگر نہیں دیکھا تو مجھے دیکھ لو
کیا کسی کو باتھوں سے لکیر مٹاتے دیکھا ہے
اگر نہیں دیکھا تو مجھے دیکھ لو
کیا کسی کو اپنی خوشیاں لوٹاتے دیکھا ہے
اگر نہیں دیکھا تو مجھے دیکھ لو
کیا کسی کو کسی کہ لیے دنیا بھلاتے دیکھا ہے
اگر نہیں دیکھا تو مجھے دیکھ لو
کیا کسی کو اپنے خواب جلاتے دیکھا ہے
اگر نہیں دیکھا تو مجھے دیکھ لو
کیا کسی کو زندگی سے بھاگتے دیکھا ہے
اگر نہیں دیکھا تو مجھے دیکھ لو
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






