گماں بیٹھا ہے
Poet: رشید حسرتؔ By: رشید حسرتؔ, Quettaتو جو بیٹھا ہے یہاں کون وہاں بیٹھا ہے
ہے حقیقت میں وہی تو، کہ گماں بیٹھا ہے
سر چھپانے کو مجھے سایہ میسّر نہ ہؤا
تیرے پہلو میں مگر ایک جہاں بیٹھا ہے
ہر جگہ اپنی ادا کاری کے جوہر نہ دکھا
اک ذرا یہ بھی رہے دھیان کہاں بیٹھا ہے
سب تری جادو نگاہی کا ہنر دیکھیں گے
کوئی بیٹھا ہے یہاں، کوئی وہاں بیٹھا ہے
کیوں اٹھاتا ہے انہیں، خوفِ خدا ہے کہ نہیں
بیٹھا رہنے دے ابھی، جو بھی جہاں بیٹھا ہے
دیکھ مضبوطی میں معمار کا دعویٰ تھا غلط
ایک جھٹکے ہی میں تو سارا مکاں بیٹھا ہے
تُل کے آیا تھا مرا نام مٹانے کے لیئے
کر کے دشمن مرا گم اپنا نشاں بیٹھا ہے
اپنی تقدیر میں تو ٹوٹا ستارا بھی نہیں
بیچنے کو جو یہاں کاہکشاں بیٹھا ہے
آگ وہ دل میں جفاؤں نے لگائی ہے رشیدؔ
جا کے صدیوں میں کہیں آج دھواں بیٹھا ہے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






