تھوڑی دیر کو جی بہلا تھا

Poet: زین By: زین, Karachi

تھوڑی دیر کو جی بہلا تھا
پھر تری یاد نے گھیر لیا تھا

یاد آئی وہ پہلی بارش
جب تجھے ایک نظر دیکھا تھا

ہرے گلاس میں چاند کے ٹکڑے
لال صراحی میں سونا تھا

چاند کے دل میں جلتا سورج
پھول کے سینے میں کانٹا تھا

کاغذ کے دل میں چنگاری
خس کی زباں پر انگارہ تھا

دل کی صورت کا اک پتا
تیری ہتھیلی پر رکھا تھا

شام تو جیسے خواب میں گزری
آدھی رات نشہ ٹوٹا تھا

شہر سے دور ہرے جنگل میں
بارش نے ہمیں گھیر لیا تھا

صبح ہوئی تو سب سے پہلے
میں نے تیرا منہ دیکھا تھا

دیر کے بعد مرے آنگن میں
سرخ انار کا پھول کھلا تھا

دیر کے مرجھائے پیڑوں کو
خوشبو نے آباد کیا تھا

شام کی گہری اونچائی سے
ہم نے دریا کو دیکھا تھا

یاد آئیں کچھ ایسی باتیں
میں جنہیں کب کا بھول چکا تھا

Rate it:
Views: 235
16 Jan, 2025
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL