ھاتھوں سے اپنے رخسار کو چھپاتے کیوں ہو
Poet: Muhammad Tanveer Baig By: Muhammad Tanveer Baig, Islamabadھاتھوں سے اپنے رخسار کو چھپاتے کیوں ہو
شرمندہ نہیں مجھ سے تو پھر آنکھ چراتے کیوں ہو
آنسو آنکھوں میں میری دیکھ کر روتے ہو تم بھی
بھر آتا ہے دل تو پھر دل کو دکھاتے کیوں ہو
کہتے ہو کہ میں تمھارے مقدر میں ہی نہیں
تو بے معنی آس پھر ہمیں لگاتے کیوں ہو
کس جرم کی سزا ہے یہ اور کہاں کا ہے دستور
سمجھتے نہیں اپنا تو پھیر احساس اپنائیت دلاتے کیوں ہو
مر مر کہ روز مجھے ہی جینے کو کہتے ہو
دے کر تسلی مجھے تو پھر خود کو رلاتے کیوں ہو
اب کر بھی لو اقرار محبت تم بھی میری طرح
کرتے نہیں پیار تم تو پھر پیار جتاتے کیوں ہو
کاش کہ تم سے محبت ہی نا ہوئی ہوتی اے تنویر
بے بسی میں تنہا پھریہ جملہ دہراتے کیوں ہو
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






