میں ہار جاتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaبہت لڑتی ہوں خود سے
مگر میں ہار جاتی ہوں
تجھے اور نہ چاہوں گئی
ہر بارخود سے وعدہ کرتی بوں
مگر میں ہار جاتی ہوں
نہیں کروں گئی تیرا اور انتظار
مگر میں ہار جاتی ہوں
سکون دل کی خاطر
رہتی ہوں مصروف
مگر تیری یاد آتے ہی
میں ہار جاتی ہوں
میں خوش رہنے کی
کوشش کرتی ہوں
مگر میں ہار جاتی ہوں
میں اپنا درد چھپاتی ہوں
مگر میں ہار جاتی ہوں
میں بہت ہمت کرتی ہوں
مگر میں ہار جاتی ہوں
میں سارا دن اشک نہیں
بہاتی مگر رات کے پچھلے پہر
میں ہار جاتی ہوں
میں اب گلابوں کو نہیں دیکھتی
مگر کتاب میں پڑا اک مرجھایا
گلاب دیکھ کر میں ہار جاتی ہوں
آسمان کو دیکھنا تو چھوڑ ہی
دیا میں نے مگر جب ہوا چھو کر
گزرے تو میں ہار جاتی ہوں
جاتے ہو ؟ اب میں گانے نہیں سنتی
مگر اکثر تیرے گنگنانے کی یاد
آ جائے تو میں ہار جاتی ہوں
وہ جو اک گفٹ لیا تھا بڑے پیار سے
تمہارے لیے اب الماری میں پڑا
نظر آ جائے تو میں ہار جاتی ہوں
میں اب گھڑی نہیں دیکھتی
اگر اچانک سے نظر پڑھ جائے
تو تیرے آنے کا وقت یاد آتے
ہی میں ہار جاتی ہوں
میں اب کسی سے زیادہ بات
نہیں کرتی کیونکہ تیرا ذکر
سنتے ہی میں ہار جاتی ہوں
تیرے نام کے وہ پانچ لفظ
کہیں دیکھائی دے جائے تو
میں ہار جاتی ہوں
جاتے ہو ؟ اب میں اپنا
نام نہیں لکھتی کیوں کہ
اپنا ادھورا نام دیکھ کر
میں ہار جاتی ہوں
کبھی یوں ہاتھوں پے نظر
جایئں تو تیرا احساس ہوتا ہیں
تو میں ہار جاتی ہوں
میں اب اندھرے میں رہتی ہوں
اگر ُاجالے مین جاؤں تو
میں ہار جاتی ہوں
اب تو کتنے دن گزر گئے
تمہیں دیکھے تم سے بات کیے
میں ہر شام کے ڈوبتے سورج
کے ساتھ ہار جاتی ہوں
وہ ریت کے چھوٹے چھوٹے گھر
جو بنایے تھے دریا کنارے
جنہیں میں محل کہا کرتی تھی
ُانہیں اب یوں ہی بکھرا
دیکھ کر میں یار جاتی ہوں
میں اب کسی کو پیار میں
دیکھتی ہوں اک آگ کے دریا میں
دیکھتی ہوں تو میں ہار جاتی ہوں
کیا محبت اسی کو کہتے ہیں
جو تم نے کیا جب سوچتی ہوں
تو میں ہار جاتی ہوں
اب اپنے ہی لکھے لفظ سامنے
آتے ہیں تو میں ہار جاتی ہوں
اب تو میری سانس بھی مجھے
تکیف دیتی ہیں کہ میں کیسے
زندہ ہوں تیرے بغیر یہی سوچ کر
جب سانس لیتی تو میں ہار جاتی ہوں
کسی کی بزمِ ناز سے اٹھا دیئے گئے تو کیا
خلوص کا مزہ گیا، دہی بنا ہے پیار کا
کسی نے کھو دیا کسی کو لا دیئے گئے تو کیا
ہمیں ذرا بھی خوف سا رہا نہیں ہے خار کا
ہٹا دیئے گئے تو کیا، بچھا دیئے گئے تو کیا
ستم تو دیکھیے ہمیں مہک پہ دست رس نہیں
اسیرِ زلفِ یار بھی بنا دیئے گئے تو کیا
ملی حیات کو نجات کل کی تیرگی سے تو
وفا کی راہ میں ہزار ہا دیّے گئے تو کیا
ہمیں کمالِ ضبط بھی عطا کِیا گیا تو ہے
ستم، ستم کے بعد ہم پہ ڈھا دیئے گئے تو کیا
ملی اگر خوشی کبھی لگا کہ بھول سے ملی
تعاقبوں میں اس پہ غم لگا دیئے گئے تو کیا
کبھی تو ایک دن الگ رہے تو زیست بار تھی
نہ تھے جو بیچ فاصلے بڑھا دیئے گئے تو کیا
رشیدؔ رفعتوں میں ہے کوئی جو دیکھتا ہے سب
گئے دنوں کے درد پھر جگا دیئے گئے تو کیا
مگر میرے پاؤں میں بیڑیاں خاندانی حرمت کی ہیں۔
دل کو قفس سے آزاد کرتے ہوئے، میرے ستمگر کو یہ خیال نہ رہا،
کہ شاید دل میں محبت کی رمق اب بھی باقی ہے۔
میرے بیزارِ محبت کو گمان ہے میرے دل کے کارآمد ہونے پر،
وار اسی لیے وہ کرتا ہے میرے آرامیدہ ہونے پر۔
ہنر ہے میرا کہ میں نے اس کو اب تک سنوار کر رکھا ہے،
ورنہ یہ زخمی و آزردہ دل کب کا مر چکا ہے۔
دل کو اب تک وہ محبت کا فسانہ یاد ہے
وہ گلی وہ شام وہ چہرے وہ ہنسی کے قافلے
آج بھی آنکھوں کو سب کچھ دل کا افسانہ یاد ہے
وقت کی آندھی نے سب نقش مٹا ڈالے مگر
دل کی دیواروں پہ تیرا وہ ٹھکانہ یاد ہے
ہم نے سوچا تھا کہ بھولیں گے تجھے اک دن کبھی
پر ہمیں ہر موڑ پر تیرا بہانہ یاد ہے
کچھ تعلق وقت کے ہاتھوں بچھڑ جاتے ہیں مگر،
دل کو ہر رشتہ، ہر اک گزرا زمانہ یاد ہے
اب بھی تنہائی میں جب چاند نکل آتا ہے
تیری باتوں کا وہ پیارا سا خزانہ یاد ہے
زندگی آگے تو بڑھتی ہی رہی مسعود مگر
دل کو بچپن دل کو وہ گزرا زمانہ یاد ہے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم







