ہر جبر کی دیوار کو توڑیں گے کسی دن
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiہر جبر کی دیوار کو توڑیں گے کسی دن
ہم ظلم کی آغوش سے نکلیں گے کسی دن
تم دیکھنا اسمان بھی برساۓ گا پتھر
ہم ظلمتِ انساں پہ جو بولیں گے کسی دن
کیوں روز بہایا یہاں جاتا ہے نیا خون
ہم ایسی رسومات کو توڑیں گے کسی دن
فی الحال ضمیر ان کا تو سویا ہوا ہے پر
یہ مارے گۓ لوگ بھی اٹھیں گے کسی دن
بچوں کا لہو دے کے بھی چپ ہیں جو ابھی تک
یلغار کی صورت وہی ابھریں گے کسی دن
پیتے ہیں تو کیوں دیر تلک ڈولتے ہیں لوگ
اس چیز کو ہم پی کے ہی دیکھیں گے کسی دن
نام اہلِ محبت کی زباں پر ہے ہمارا
ہم نوکِ سناں پر سے بھی گزریں گے کسی دن
جو آج مرے درد پہ ہنستے ہیں جہاں میں
وہ لوگ مجھے ٹوٹ کے روئیں گے کسی دن
جس سے ہو محبت اسے سجدے نہیں کرتے
ہم اپنے خدا کو گلے مل لیں گے کسی دن
جو لوگ ستم سہہ کے بھی چپ رہتے ہیں باقرؔ
برسیں گے تو پھر ٹوٹ کے برسیں گے کسی دن
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






