ہمارے بعد محبت پہ یوں زوال آیا

Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachi

ہمارے بعد محبت پہ یوں زوال آیا
وفا ،وفا نہ رہی حسن پر بھی کال آیا

کسی نے زخم اٹھاۓ نہ پھر ہماری طرح
کوئ بھی شخص ہماری نہ پھر مثال آیا

کسی کو بھی نہ میسر ہوا محبت میں
ہمارے حصے میں جو درد باکمال آیا

کہیں اسے بھی غم ہجر نے نہ گھیرا ہو
جو رات گرد ہماری لحد پہ ڈال آیا

کہ اس کے بن میں بھلا جی بھی پاؤں گا کہ نہیں
بچھڑتے وقت اسے کیوں نہ یہ خیال آیا

میں کیسے مان لوں گھر جا کے وہ بہت رویا
بچھڑ کے جس کی جبیں پر نہ کچھ ملال آیا

کوئ تو ہو گی مراسم کے ٹوٹنے کی وجہ
ہر ایک شخص کا ہم کو یہی سوال آیا

کچھ اس طرح سے بھی کھاتے رہے ہیں ہم دھوکے
زمانہ روز بدل کر نئ جو چال آیا

ہماری عمر ہی گزری ہے ہجر میں باقرؔ
وصال یار کا پھر سے نہ کوئ سال آیا
 

Rate it:
Views: 535
13 May, 2016
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL