ہستی کا مِری حشر بپا دیکھتے ہوئے
Poet: رشید حسرتؔ By: رشید, Quettaہستی کا مِری حشر بپا دیکھتے ہوئے
وہ رو ہی دیا مُجھ کو بُجھا دیکھتے ہوئے
ہم وہ کہ کبھی وقت سے بھی ہار نہ مانیں
برباد کِیا آپ نے کیا دیکھتے ہوئے
انجان علاقہ تھا، کِیا میں نے تعیُّن
قِبلے کا، فقط قِبلہ نُما دیکھتے ہوئے
مرمر تھا ماں کی قبر پہ نہ باپ کی کبھی
چھلکی ہے آنکھ کتبہ لگا دیکھتے ہوئے
سو جانا چاہیئے کہ نہِیں شب کا جاگنا
اچھّا، وہ شب کا ایک بجا دیکھتے ہوئے
کل تک جو مِرے ایک اِشارے پہ فدا تھے
مُنہ پھیر گئے وقت بُرا دیکھتے ہوئے
بوسِیدہ ہو کے چاک ہوئی ہے جگہ جگہ
مزدُور کے جو تن پہ قبا، دیکھتے ہوئے
بھائی کی یاد آئی ہے بے ساختگی کے ساتھ
بیریں کا پیڑ گھر میں لگا دیکھتے ہوئے
لوٹ آ تو مِرے دوست ترے بعد تِری بزم
نمناک ہوئی آنکھ سجا دیکھتے ہوئے
اللہ کا تُو شُکر ادا کر کہ نہیں ہے
تذلِیل نہ کر، اُس کو گدا دیکھتے ہوئے
بیٹی جو کہہ دیا ہے تُجھے، دل سے کہہ دیا
حسرتؔ ہے سر پہ ہاتھ حیا دیکھتے ہوئے
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں






