بات کُچھ اور تھی پر لُبّ لُباب اور کوئی
Poet: رشید حسرتؔ By: رشید, Quettaبات کُچھ اور تھی پر لُبّ لُباب اور کوئی
پائی تعبِیر کوئی اور، تھا خواب اور کوئی
سخت موسم تو گُلستاں کے سبھی ہم نے سہے
لے گیا چُن کے مگر سارے گُلاب اور کوئی
ایرے غیرے کے لیئے دل میں لچک کیا رکھنا
تھا جو اِک شخص مگر اُس کا حساب اور کوئی
کیا نِکالے گا بھلا حل وہ مُعمّوں کا حُضور
ہم نے پُوچھا ہے سوال اور، جواب اور کوئی
راس آئی نہ تُمہیں بات جو شائستہ کہی
پِھر تو کرنا ہی پڑا ہم کو خِطاب اور کوئی
دِل میں اعادہ کیا اور ہی مشقوں کا مگر
کُھل گئے ہم پہ مُحبّت میں ہی باب اور کوئی
ہم کہاں اور کہاں ساقئِ محفِل کی نظر؟؟
تم نے دیکھا ہے جِسے ہو گا جناب! اور کوئی
کر کے اعمال بھی ہاتھ اپنے رہے ہیں خالی
ڈھوئے جاتا ہے گُنہ اور ثواب اور کوئی
ہم نے وہ فصل بھی کاٹی ہے جو بوئی ہی نہ تھی
آئے حِصّے میں اپنے عذاب اور کوئی
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






