بات کُچھ اور تھی پر لُبّ لُباب اور کوئی

Poet: رشید حسرتؔ By: رشید, Quetta

بات کُچھ اور تھی پر لُبّ لُباب اور کوئی
پائی تعبِیر کوئی اور، تھا خواب اور کوئی

سخت موسم تو گُلستاں کے سبھی ہم نے سہے
لے گیا چُن کے مگر سارے گُلاب اور کوئی

ایرے غیرے کے لیئے دل میں لچک کیا رکھنا
تھا جو اِک شخص مگر اُس کا حساب اور کوئی

کیا نِکالے گا بھلا حل وہ مُعمّوں کا حُضور
ہم نے پُوچھا ہے سوال اور، جواب اور کوئی

راس آئی نہ تُمہیں بات جو شائستہ کہی
پِھر تو کرنا ہی پڑا ہم کو خِطاب اور کوئی

دِل میں اعادہ کیا اور ہی مشقوں کا مگر
کُھل گئے ہم پہ مُحبّت میں ہی باب اور کوئی

ہم کہاں اور کہاں ساقئِ محفِل کی نظر؟؟
تم نے دیکھا ہے جِسے ہو گا جناب! اور کوئی

کر کے اعمال بھی ہاتھ اپنے رہے ہیں خالی
ڈھوئے جاتا ہے گُنہ اور ثواب اور کوئی

ہم نے وہ فصل بھی کاٹی ہے جو بوئی ہی نہ تھی
آئے حِصّے میں اپنے عذاب اور کوئی

Rate it:
Views: 671
22 Jun, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL