ہمارا کیا ہے؟
Poet: MOHSIN By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIہمارا کیا ہے کہ ہم تو چراغِ شب کی طرح
اگر جلے بھی تو بس اتنی روشنی ہوگی!
کہ جیسے تُند اندھیروں کی راہ میں جگنو
ذرا سی دیر کو چمکے چمک کے کھو جائے
پھر اِس کے بعد کسی کو نہ کچھ سُجھائی دے
نہ شب کٹے نہ سُراغ سحر دکھائی دے!
ہمارا کیا ہے کہ ہم تو پسِ غبارِ سفر
اگر چلے بھی تو بس اِتنی راہ طَے ہوگی!
کہ جیسے تیز ہواؤں کی زد میں نقشِ قدم
ذرا سی دیر کو اُبھر کے مِٹ جائے
پھر اِس کے بعد نہ منزل نہ رہگذار ملے!
حدِ نگاہِ تلک دشتِ بے کنار ملے!!
ہماری سَمت نہ دیکھو کہ کوئی دیر میں ہم
قبیلئہ دِل و جاں سے بچھڑنے والے ہیں
بسے بسائے ہوُئے شہر اپنی آنکھوں کے
مثالِ خانۂ ویراں اُجڑنے والے ہیں
ہوَا کا شور یہی ہے تو دیکھتے رہنا
ہماری عُمر کے خیمے اُکھڑنے والے ہیں
اب اِس کے بعد تُمہارے لیے ہیں رنگ سبھی
سبھی رتیں سبھی موسم تمہی سے مہکیں گے!
ہر ایک لَوحِ زماں پر تمہارے نام کی مُہر
ہر ایک صُبح تمہاری جبیں پہ سجدہ گذار
طلوُعِ مہرِ درخشاں‘ فروغِ ماہِ تمام!
یہ رنگ و نوُر کی بارش تمہارے عہد کے نام
اَب اِس کے بعد یہ ہو گا کہ تُم پہ ہونا ہے
ورُودِ نعمت عُظمٰے ہو یا نزولِ عذاب!
تُمہی پہ قرض رہے گی تمہارے فرض میں ہے
دِلوں کی زخم شُماری غمِ جہاں کا حِساب
گناہِ وصل کی لذّت کہ ہجرتوں کا ثواب؟
تمام نقش تمہی کو سنوارنا ہوں گے!
رگوں میں ضبط کے نشتر اُتارنا ہوں گے!
اب اِس طرح ہے کہ گذرے دنوں کے ورثے میں
تمہاری نذر ہیں ٹکڑے شکستہ خوابوں کے
جلے ہوئے کئی خیمے دریدہ پیراہن
بُجھے چراغ لہو انگلیاں فگار بدن
یتیم لفظ ردا سوختہ انا کی تھکن
تُمہیں یہ زخم تو آنکھوں میں گھولنا ہوں گے
عذاب اور بھی پلکوں پہ تولنا ہوں گے
وہ یوُں بھی ہے کہ اگر حوصلے سلامت ہوں!
بہت کٹھن بھی نہیں رہگذارِ دشت جنوُں
یہی کہ آبلہ پائی سے جی نہ اُکتائے!
جراحتوں کی مشقّت سے دِل نہ گھبرائے!
رگوں سے درد کا سیماب اس طرح پھوٹے
نشاطِ کَرب کا عالَم فضا پہ طاری ہو!
کبھی جو طبل بجے‘ مقتلِ حیات سجے!
تو ہر قدم پہ لہوُ کی سبیل جاری ہو!
جو یوُں نہیں تو چلو اب کے اپنے دامن پر
بہ فیضِ کم نظری داغ بے شُمار سہی!
اُدھر یہ حل کہ موسِم خراج مانگتا ہے
اِدھر یہ رنگ کہ ہر عکس آئینے سے خجِل
نہ دل میں زخم نہ آنکھوں میں آنسوؤں کی چمک
جو کچھ نہیں تو یہی رسمِ روزگار سہی!
نہ ہو نصیب رگِ گُل تو نوکِ خار سہی
جو ہو سکے تو گریباں کے چاک سیِ لینا!
وگرنہ تُم بھی ہماری طرح سے جی لینا
کسی کی بزمِ ناز سے اٹھا دیئے گئے تو کیا
خلوص کا مزہ گیا، دہی بنا ہے پیار کا
کسی نے کھو دیا کسی کو لا دیئے گئے تو کیا
ہمیں ذرا بھی خوف سا رہا نہیں ہے خار کا
ہٹا دیئے گئے تو کیا، بچھا دیئے گئے تو کیا
ستم تو دیکھیے ہمیں مہک پہ دست رس نہیں
اسیرِ زلفِ یار بھی بنا دیئے گئے تو کیا
ملی حیات کو نجات کل کی تیرگی سے تو
وفا کی راہ میں ہزار ہا دیّے گئے تو کیا
ہمیں کمالِ ضبط بھی عطا کِیا گیا تو ہے
ستم، ستم کے بعد ہم پہ ڈھا دیئے گئے تو کیا
ملی اگر خوشی کبھی لگا کہ بھول سے ملی
تعاقبوں میں اس پہ غم لگا دیئے گئے تو کیا
کبھی تو ایک دن الگ رہے تو زیست بار تھی
نہ تھے جو بیچ فاصلے بڑھا دیئے گئے تو کیا
رشیدؔ رفعتوں میں ہے کوئی جو دیکھتا ہے سب
گئے دنوں کے درد پھر جگا دیئے گئے تو کیا
مگر میرے پاؤں میں بیڑیاں خاندانی حرمت کی ہیں۔
دل کو قفس سے آزاد کرتے ہوئے، میرے ستمگر کو یہ خیال نہ رہا،
کہ شاید دل میں محبت کی رمق اب بھی باقی ہے۔
میرے بیزارِ محبت کو گمان ہے میرے دل کے کارآمد ہونے پر،
وار اسی لیے وہ کرتا ہے میرے آرامیدہ ہونے پر۔
ہنر ہے میرا کہ میں نے اس کو اب تک سنوار کر رکھا ہے،
ورنہ یہ زخمی و آزردہ دل کب کا مر چکا ہے۔
دل کو اب تک وہ محبت کا فسانہ یاد ہے
وہ گلی وہ شام وہ چہرے وہ ہنسی کے قافلے
آج بھی آنکھوں کو سب کچھ دل کا افسانہ یاد ہے
وقت کی آندھی نے سب نقش مٹا ڈالے مگر
دل کی دیواروں پہ تیرا وہ ٹھکانہ یاد ہے
ہم نے سوچا تھا کہ بھولیں گے تجھے اک دن کبھی
پر ہمیں ہر موڑ پر تیرا بہانہ یاد ہے
کچھ تعلق وقت کے ہاتھوں بچھڑ جاتے ہیں مگر،
دل کو ہر رشتہ، ہر اک گزرا زمانہ یاد ہے
اب بھی تنہائی میں جب چاند نکل آتا ہے
تیری باتوں کا وہ پیارا سا خزانہ یاد ہے
زندگی آگے تو بڑھتی ہی رہی مسعود مگر
دل کو بچپن دل کو وہ گزرا زمانہ یاد ہے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم






