ہمارے بعد محبت پہ یوں زوال آیا
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiہمارے بعد محبت پہ یوں زوال آیا
وفا ،وفا نہ رہی حسن پر بھی کال آیا
کسی نے زخم اٹھاۓ نہ پھر ہماری طرح
کوئ بھی شخص ہماری نہ پھر مثال آیا
کسی کو بھی نہ میسر ہوا محبت میں
ہمارے حصے میں جو درد باکمال آیا
کہیں اسے بھی غم ہجر نے نہ گھیرا ہو
جو رات گرد ہماری لحد پہ ڈال آیا
کہ اس کے بن میں بھلا جی بھی پاؤں گا کہ نہیں
بچھڑتے وقت اسے کیوں نہ یہ خیال آیا
میں کیسے مان لوں گھر جا کے وہ بہت رویا
بچھڑ کے جس کی جبیں پر نہ کچھ ملال آیا
کوئ تو ہو گی مراسم کے ٹوٹنے کی وجہ
ہر ایک شخص کا ہم کو یہی سوال آیا
کچھ اس طرح سے بھی کھاتے رہے ہیں ہم دھوکے
زمانہ روز بدل کر نئ جو چال آیا
ہماری عمر ہی گزری ہے ہجر میں باقرؔ
وصال یار کا پھر سے نہ کوئ سال آیا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






