ہمیں نہیں معلوم عید کیسے کہتے ہیں
Poet: Arooj Fatima ( Lucky ) By: AF (Lucky ), K.S.Aہمیں جو کہتے تھے جان کبھی
اب پوچھتے ہیں تیرا نام ہے کیا
کیوں آ جاتے ہو بار بار تنگ کرنے
تمہں آخر مجھ سے کام ہے کیا
میری شعری کو جو اک نظر نا دیکھئے
لکی ! میری شعر اتنے عام ہے کیا
دل بہلانے کو اور بھی راستے تھے مگر
دل چاہے ہر پل ُاسی کو پھر صبح و شام ہے کیا
نہیں آتا ُاسے خود بخود خیال میرا
الہٰی ! ہر چیز ُاس کے پاس تمام ہے کیا
ہمیں نہیں معلوم عید کیسے کہتے ہیں
میرا دل ہے افسردہ پھر جشن و صام ہے کیا
ہاتھوں کی لکیروں میں ڈوب بھی جاؤں اگر
پھر بھی نہیں معلوم میرے اندر خام ہے کیا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






