کچھ پل کے لیے تو بات کرتے
Poet: Arooj Fatima ( Lucky ) By: AF(Lucky) , K.S.Aکچھ پل کے لیے تو بات کرتے
اپنا نہیں تو میرا خیال کرتے
میں نے تمہارے ساتھ کے خواب دیکھے تھے
میری آنکھوں کو نا آنسووں سے لال کرتے
منہ موڑنا تھا تو بلایا ہی کیوں
سرے عام محفل میں تو نا بے حال کرتے
میں خاموش ہوں مگر کچھ تو سوچو
میرا نہیں لیکن میرے اپنوں کا تو استقبال کرتے
سنو ! میں نے بڑے دعوے کیے ہیں تم پر
میری جان میری خاطر کچھ تو کمال کرتے
یہ تلیخ لہجہ یہ دل میں چبتے الفاظ
اپنے محبوب پر تو نا استعال کرتے
بے بنیاد سہی مگر حقیقت ہے لکی
جھوٹے وعدوں سے نا میرے گرد جال کرتے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






