ہم تو روتے ہیں رونا خواہش کا
Poet: فہیم By: فہیم, Islamabadہم تو روتے ہیں رونا خواہش کا
وہ مزہ لے رہے ہیں بارش کا
سب مقدر سے مل رہا ہے یہاں
زور چلتا رہے گا کوشش کا
ورنہ دنیا میں ہم نہیں آتے
کھیل سارا ہے آزمائش کا
سب پرستار اس کے ہو جاؤ
ڈھنگ آ جائے گا پرستش کا
تجھ کو پا کر زمین رقص میں ہے
کھل گیا راز سارا گردش کا
دل میں رکھتے ہیں یار کی تصویر
شوق ہم کو نہیں نمائش کا
اس کی گردن میں وہ حرارت ہے
لطف ملتا ہے قرب آتش کا
ریل گاڑی کے انتظار میں ہوں
مل چکا ہے پتہ رہائش کا
مجھ کو اردو پسند ہے کہہ کر
دل دکھایا ہے اس نے انگلش کا
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






