ہے خاروں سے تجھ کو یہ کیسی شکائت
Poet: Ibn.e.Raza By: ٰIbn.e.Raza, Islamabadجو سینے میں تم کو چھپاتے نہ جاتے
کبھی غم کی شامیں مناتے نہ جاتے
سنو ہم سے الفت اگر تھی ذرا بھی
تو دل کو ہمارے جلاتے نہ جاتے
نہ ہوتی کوئی بھی خلش میرے دل میں
جوتم دل کے گلشن میں آتے نہ جاتے
کبھی سوز تیرے نہ جی کو جلاتا
غمِ عشق سینے لگاتے نہ جاتے
ہے خاروں سے تجھ کو یہ کیسی شکائت
گلوں سے دریچے سجاتے نہ جاتے
کبھی ہجر نہ خوں کے آنسو رلاتا
نظر سے نظر جو ملاتے نہ جاتے
تماشہ تو اپنا بنایا ہے خود ہی
غمِ جاں سبھی کو بتاتے نہ جاتے
نگاہیں رضا تیری با نور ہوتیں
جودن رات آنسو بہاتے نہ جاتے
جو آسان ہوتا اگر شعر کہنا
رضا گیت ہم کو سناتے نہ جاتے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






