وفا کرےجفا کرے، وہ رَوش جوروا کرے
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabadوفا کرےجفا کرے، وہ رَوش جوروا کرے
جہاں رہےسکھی رہےخدا کرےخدا کرے
کہا سُنااگر کبھی ذرا اُسےبُرا لگے
بُرا بھلاکہا کرےخفا نہیں ہُوا کرے
اُفق اُفق سجا کرےنگر نگرپھرا کرے
جہاں کہیں رہا کرےکبھی تو آملا کرے
قدم قدم رہے اُسےبہار کاہی سامنا
الگ تھلک خفا خفاخِزاں صدارہا کرے
سکوں ملےہزار بار اِضطراب ِدل سے بھی
کرم کی اِک نگاہ جوکبھی ہمیں عطا کرے
نگاہ میں جودیکھ لےسوال کچھ ا ُٹھے ہوئے
اِ دھر اُدھراگر مگر، جواز یوںگھڑا کرے
نواز کےجو وصل کومٹا دِےسارےفاصلے
ہِےایک یہِ ہی آرزو خدا نہ پھرجُدا کرے
وفا کِی پاسداری کی لگا کے آگ سینے میں
ہے سا نحہ یہ عشق کا،کہ رات دن جلا کرے
اُمید کاچراغ گر،کبھی جو تھرتھرا اُٹھے
نظر نظرجلا کرےنظر نظربجھا کرے
نصیب میں رضا ترےوصال تونہیں مگر
یقین یہ ضرور ہےخدا ہی معجزا کرے
ہے برسبیلِ تذکرہ یہ بات یونہی چھیڑ دی
اگر اُسےبُرا لگےمعاف یہ خطا کرے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






