یونہی سی ایک بات تھی اس کا ملال کیا کریں
Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIیونہی سی ایک بات تھی اس کا ملال کیا کریں
میرِ خراب حال سا اپنا بھی حال کیا کریں
ایسی فضا کے قہر میں ، ایسی ہوا کے زہر میں
زندہ ہیں ایسے شہر میں اور کمال کیا کریں
اور بہت سی الجھنیں طوق و رسن سے بڑھ کے ہیں
ذکر جمال کیا کریں ، فکرِ وصال کیاکریں
ڈھونڈ لئے ہیں چارہ گر، ہم نے دیارِ غیر میں
گھر میں ہمارا کون ہے ، گھر کا خیال کیا کریں
چنتے ہیں دل کی کرچیاں ، بکھری ہیں جو یہاں وہاں
ہونا تھا ایک دن یہی، رنجِ مآل کیا کریں
اس کی نظر میں ہیچ ہیں اپنی تمام منطقیں
تیغ خیال کیا کریں ، حرف کی ڈھال کیا کریں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






