یہ جو قربتوں کا خمار ہے

Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

یہ جو قربتوں کا خمار ہے

مرے اجنبی ، مرے آشنا

تو مصر کہ آئینہ خانے میں

ترے خال و خد کے سوا مجھے

کہیں اور کچھ نہ دکھائی دے

یہ عذابِ طوق و رسن مرا

کسی قصر خواب و خیال تک

مرے ذہن کو نہ رسائی دے

مجھے راستہ نہ سجھائی دے

تو یہ چھت جو اپنے سروں پہ ہے

یہ جو بام و در کے حصار ہیں

یہ جو رت جگوں کی بہار ہے

یہ جو قربتوں کا خمار ہے

تو اسی پہ کیا شب عمر کی سبھی راحتوں کا مدار ہے ؟

مرے اجنبی ، مرے آشنا!

کہ دھواں دھواں سی جو ہے فضا

یہ تھمی تھمی سی جو ہے ہوا

یہ جو شور ہے دل زار کا

کبھی اس پہ غور کیا ہے کیا؟

مرے اجنبی مرے آشنا

کبھی کاش تجھ سے میں کہہ سکوں

کہ یہ ساعتیں ہیں کٹھن بہت

مرے زخم جاں کے طبیب آ

مرے تن بدن سے بھی ربط رکھ

مری روح کے بھی قریب آ

مرے اجنبی مرے آشنا۔ ۔ ۔

Rate it:
Views: 640
27 Aug, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL