یوں سنگ چاٸے پیتے عمر بیت جاٸے
Poet: طارق اقبال حاوی By: Tariq Iqbal Haavi, Lahoreبھلے کوٸی کتنی بھی اچھی بناٸے
مگر دل کو بھاٸے، تمھاری ہی چاٸے
تیرے ہاتھوں کی خوشبو، وہ چاہت کا جادو
ہر اک گھونٹ دل میں محبت جگاٸے
یہ ٹھنڈی ھواٸیں، بیتابی بڑھاٸیں
ستم یہ کہ اس پہ تیری یاد آٸے
یہ دھندلے سے منظر، یہ بھیگا دسمبر
بھلا کوٸی تنہا یہ کیسے بیتاٸے
تھکن بے سبب ہے، اور یہی طلب ہے
اک کپ اپنے پن کا تو پھر سے پلاٸے
ہے اتنی سی حسرت، رہے باقی قربت
یوں سنگ چاٸے پیتے عمر بیت جاٸے
More Life Poetry






