یہ جو قربتوں کا خمار ہے
Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIیہ جو قربتوں کا خمار ہے
مرے اجنبی ، مرے آشنا
تو مصر کہ آئینہ خانے میں
ترے خال و خد کے سوا مجھے
کہیں اور کچھ نہ دکھائی دے
یہ عذابِ طوق و رسن مرا
کسی قصر خواب و خیال تک
مرے ذہن کو نہ رسائی دے
مجھے راستہ نہ سجھائی دے
تو یہ چھت جو اپنے سروں پہ ہے
یہ جو بام و در کے حصار ہیں
یہ جو رت جگوں کی بہار ہے
یہ جو قربتوں کا خمار ہے
تو اسی پہ کیا شب عمر کی سبھی راحتوں کا مدار ہے ؟
مرے اجنبی ، مرے آشنا!
کہ دھواں دھواں سی جو ہے فضا
یہ تھمی تھمی سی جو ہے ہوا
یہ جو شور ہے دل زار کا
کبھی اس پہ غور کیا ہے کیا؟
مرے اجنبی مرے آشنا
کبھی کاش تجھ سے میں کہہ سکوں
کہ یہ ساعتیں ہیں کٹھن بہت
مرے زخم جاں کے طبیب آ
مرے تن بدن سے بھی ربط رکھ
مری روح کے بھی قریب آ
مرے اجنبی مرے آشنا۔ ۔ ۔
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






