رات کچھ یارِ طرحدار بہت یاد آئے
Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIرات کچھ یارِ طرحدار بہت یاد آئے
وہ گلی کوچے ، وہ بازار بہت یاد آئے
جن کے ہونے کی تسلی سے خوشی ہوتی تھی
درد چمکا تو وہ غمخوار بہت یاد آئے
شامِ فرقت میں چمکتی ہوئی صبحوں کی طرح
اپنے گھر کے درودیوار بہت یاد آئے
سامنے دیکھ کے پرچھائیاں انسانوں کی
کسی افسانے کے کردار بہت یاد آئے
جن کے سایوں میں ہمیں نیند بہت آتی تھی
دھوپ میں ہم کو وہ اشجار بہت یاد آئے
سبھی اچھے تھے ترے شہر کے اربابِ کرم
ہاں ، مگر ان میں سے دو چار بہت یاد آئے
اب جو بھیجا مجھے خط اس نے بڑے پیار کے ساتھ
اس کے کچھ حرفِ دل آزار بہت یاد آئے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






