یہ سچ ہے کہ ہم لوگ بہت آسانی میں رہے
Poet: شعیب ارشد By: Muhammad Shoaib Arshad, Bridgeportیہ سچ ہے کہ ہم لوگ بہت آسانی میں رہے
پر نام وہی کر گئے جو بخت گرانی میں رہے
اس کی یاد کس دیر تک ساتھ رہی کیا کہیں
غم تھا تو گھر ہو کے بھی لامکانی میں رہے
لوگ قصے کر گزر کے رقم کر بھی گئے
ہم ہیں کہ محو شوقِ قصہ خوانی میں رہے
ہم اپنی جون میں کبھی بھی نہ ہوئے تسلیم
ہم سدا کسی مکمل مثال کے ثانی میں رہے
اپنی زبان ہمیں عزیز اور نہ اپنی زمیں
غلامی سے ہم نکلے تو زندانی میں رہے
وہ میرا سوچتا تو ہے مگر کسی اور کے بعد
یعنی کہ ہم اک موہوم سے یعنی میں رہے
تھک ہار کے شل ہو بھی گیا بوڑھا جسم
ارماں کہ جواں تھے اور جوانی میں رہے
جن کو صحرا دیا وہ تشنہ لبی کو روتے رہے
جن کو دریا ملا وہ شاکی ہیں کہ پانی میں رہے
غمِ عشق اور غمِ جہاں کا حسین سمجھوتہ
دونوں میرے دل میں اپنی روانی میں رہے
ایک بار اس بے وفا سے دل لگا کے شعیبؔ
ہم تو پھر ساری عمر ہی پشیمانی میں رہے
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






