یہ میری صداؤں کا کیا جو اب بھی مجھ سے دور ہو

Poet: زوہیب سرور By: Zohaib sarwar , Sargodha

یہ میری صداؤں کیا جو اب بھی مجھ سے دور ہو
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو

پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو

کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو

تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو

Rate it:
Views: 0
20 Sep, 2026
More Sad Poetry