یہ کون سا نظام ہے؟
Poet: Shabbir Nazish By: Shabbir Nazish, Karachiیہ روز و شب کی محنتیں ، یہ کاوشیں یہ کوششیں
کہ اَن گنت بہادروں کے بازو سُوکھ سُوکھ کر
جو بن گئے ہیں رَسیاں
کہ بیکراں سمندروں میں اپنی اپنی کشتیاں
بغیر چپوئوں کے ہم چلا رہے ہیں خوف سے
یہ مُنتشر اِدھر اُدھر
جو آ رہے ہیں سَر نظر
یہ سَر نہیں یہ سَر نہیں۔۔۔۔۔یہ کھیت ہیں کپاس کے
اَذیّتوں کے دشت سے گزر رہا ہے کارواں
ہمیں نہیں ہے کچھ خبر کہ کس طرف ہیں منزلیں
مگر ہیں ہم رواں دواں
وہ چہرے جو گلاب تھے
مسرتوں کے باب تھے
جو چودھویں کا چاند تھے
جو باعثِ شباب تھے
وہ چہرے اب بگڑ گئے ، وہ چہرے اب پِچک گئے
وہ اب پرانے برتنوں کا ڈھیر بن چکے ہیں سب
کمر کمان کی طرح سبھی کی جُھک گئی ہے اب
ہم اِک صدی کے بعد بھی اُسی جگہ پہ ہیں کھڑے
جہاں سے ہم نے اِس سفر کی کی تھی ابتدا کبھی
یہ کون سا نظام ہے؟
یہ کون سا نظام ہے؟
جہاں پہ اِک مریض کو دوا دیئے بغیر ہی
رپورٹ دے کے ہاتھ میں
اُسے یہ پھر کہے کوئی
اِسی میں تیری بہتری ہے اب یہاں سے بھاگ جا
یہ کون سا نظام ہے؟
جہاں پہ ہیں عدالتیں
عدالتوں میں مُنصفوں کی بھیڑ ہے مگر یہاں
جنھوں نے جھوٹ بول کر نفاستِ خیال سے بیان مُدّعا کِیا
اُنھیں بری کِیا گیا
مگر جنھوں نے سچ کہا اُنہی کی گردنوں کا ناپ دار پر لِیا گیا
نظر کسی کی ہے اگر
تو دیکھ لے مرا یہ سَر
بنا کفن یہ سَر نہیں
مجھے کسی کا ڈر نہیں
میں سچ کہوں گا برملا کہ ساتھ ہے مرا خدا
میں پوچھتا ہوں حاکمو!
یہ گردنیں اُٹھائو تو
ذرا نظر ملائو تو
ذرا مجھے بتائو تو
کیا یہی ہیں دیس کی عدالتوں کے فیصلے۔۔۔۔۔؟
یہ کون سا نظام ہے؟
یہ کون سا نظام ہے؟
کہ جس کی کائناتِ کُل یہ فائلیں ہیں اور بس
یہ پارکوں ، عمارتوں ، یہ جنگلوں کی فائلیں
یہ اشتہاری مجرموں ، سمگلروں ، یہ قاتلوں کی فائلیں
پڑھے لکھے جو روزگار کو ترس رہے ہیں اُن کی فائلیں
یہ کالجوں کی فائلیں ، یہ رہبروں کی فائلیں
یہ راشی افسروں ، یہ نادہندگاں کی فائلیں
کہ یہ فلاں کی فائلیں ہیں ، یہ فلاں کی فائلیں
میں سوچتا ہوں ہیں یہ ساری کس جہاں کی فائلیں؟
یہ سارے مسئلے بنے ہیں کاغذوں کے زینتیں
کہ اِن پہ آج تک عمل ذرا بھی ہو نہیں سکا
یہ سوچ کر بتائو تو۔۔۔۔بھلا یہ اِک نظام ہے؟
نہیں نہیں کہ یہ فقط خواص کا غلام ہے
بھلا یہ کب تلک فصیل چاٹتے رہیں گے ہم؟
یہ آہنی فصیل ہے
فصیل یہ ثقیل ہے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے






