یہ گولیاں کیوں چلائی جاتی ہیں!
Poet: Shaikh Khalid Zahid By: Shaikh Khalid Zahid, Karachiیہ گولیاں کیوں چلائی جاتی ہیں
یہ کتنا شور مچاتی ہیں۔۔۔صفِ ماتم بچھاتی ہیں
ہنستے بستے انگن اجاڑ دیتی ہیں
کوئی دشمن نہیں ان کا۔۔۔نہ کوئی دوست ہوتا ہے
کوئی بتائے ان آگ اگلتی مشین گنوں کو
تم میں سے جوعجب آگ نکلتی ہے
یہ گل زندگی کا چراغ کردیتی ہے
یہ آگ احساس سے عاری ہوتی ہے
جو نہ تیری ہوتی ہے۔۔۔ نہ میری ہوتی ہے
بچھڑجاتا ہے جب کوئی
کتنا کہرام مچتا ہے۔۔۔ کوئی زارو قطار روتا ہے
معصوم بچوں کہ سر سے سایہ چھین لیتی ہے
پھر دنیا انہیں یتیم کہتی ہے
ماں کا لختِ جگر دفن ہوجاتاہے
وہ ہنستی کھیلتی پاگل سی دکھتی ہے
سفید لبادے میں ملبوس جو رہتی ہے
وہ بیوہ کہلاتی ہے
ساتھ جینے مرنے کہ وعدے
جب اس بیوہ کو یاد آتے ہیں
کسی کو کیا معلوم کتنے نشتر چلاتے ہیں
سب ٹوٹ جاتا ہے۔۔۔سب روٹھ جاتاہے
سب قصے پرانے ہوجاتے ہیں
مگر ایک سوال ہے جو سب اٹھاتے ہیں
یہ گولیاں کیوں چلائی جاتی ہیں
یہ کتنا شور مچاتی ہیں۔۔۔صفِ ماتم بچھاتی ہیں
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص







