ﻣﺠﮭﮯ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺭﮨﻨﮯ ﺩﻭ
Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIﻣﺠﮭﮯ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺭﮨﻨﮯ ﺩﻭ
ﺳﻨﺎ ﮨﮯ ﻋﺸﻖ ﺳﭽﺎ ﮨﻮ
ﺗﻮ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﻟﮩﻮ ﺑﻦ ﮐﺮ
ﺭﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﭺ ﺍﭨﮭﺘﯽ ﮨﮯ
ﺫﺭﺍ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﮐﻮ ﺟﮭﻮﻡ ﺟﺎﻧﮯ ﺩﻭ
ﺍﺑﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﺩﻥ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺤﺒﺖ ﺁﺯﻣﺎﻧﮯ ﺩﻭ
ﺍﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﻮﮞ ﺑﺘﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ
ﺍﺱ ﮐﻮ ﮐﺘﻨﺎ ﭼﺎﮨﺎ ﮨﮯ
ﺑﺘﺎﯾﺎ ﺟﮭﻮﭦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ
ﮐﮧ
ﺳﭽﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ
ﺗﻮ ﺧﻮﺩ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ
ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺗﯿﮟ ، ﻣﯿﺮﯼ ﺳﻮﭼﯿﮟ
ﺍﺳﮯ ﺧﻮﺩ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﻨﮯ ﺩﻭ
ﺍﺑﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﺩﻥ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺤﺒﺖ ﺁﺯﻣﺎﻧﮯ ﺩﻭ
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






