ﻣﺠﮭﮯ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺭﮨﻨﮯ ﺩﻭ
Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIﻣﺠﮭﮯ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺭﮨﻨﮯ ﺩﻭ
ﺳﻨﺎ ﮨﮯ ﻋﺸﻖ ﺳﭽﺎ ﮨﻮ
ﺗﻮ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﻟﮩﻮ ﺑﻦ ﮐﺮ
ﺭﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﭺ ﺍﭨﮭﺘﯽ ﮨﮯ
ﺫﺭﺍ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﮐﻮ ﺟﮭﻮﻡ ﺟﺎﻧﮯ ﺩﻭ
ﺍﺑﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﺩﻥ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺤﺒﺖ ﺁﺯﻣﺎﻧﮯ ﺩﻭ
ﺍﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﻮﮞ ﺑﺘﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ
ﺍﺱ ﮐﻮ ﮐﺘﻨﺎ ﭼﺎﮨﺎ ﮨﮯ
ﺑﺘﺎﯾﺎ ﺟﮭﻮﭦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ
ﮐﮧ
ﺳﭽﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ
ﺗﻮ ﺧﻮﺩ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ
ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺗﯿﮟ ، ﻣﯿﺮﯼ ﺳﻮﭼﯿﮟ
ﺍﺳﮯ ﺧﻮﺩ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﻨﮯ ﺩﻭ
ﺍﺑﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﺩﻥ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺤﺒﺖ ﺁﺯﻣﺎﻧﮯ ﺩﻭ
More Sad Poetry
لہو لہو میرا کشمیر خبر نہیں کہ سحر کب تلک یہ رات رہے گی
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
Mohammed Masood
درد دل پھر وہی درد ، وہی زخم ، وہی مرحم
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
Ghulam Mujtaba faroqii
زمانے سے کنارا زمانے سے کنارا کر لیا میں نے
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے
Kesar Khan






