(121)
آنچل پھر آشکوں سے بھگونے والا ہوں
جی بھر کے تیری یاد میں رونے والا ہوں
(122)
رمجھم رمجھم برسا رہی ہے
یاد تمہاری قطرہ قطرہ
(123)
کوئی اور ہے کام سونپ دو مجھے اِب تم
یہ کیا تجھے سوچنا اور سوچتے ہی رَہنا
(124)
اُس نے ہنسی ہنسی میں محبت کی بات کی
میں نے مسعود اس کو مکرنے نہیں دیا
(125)
اتنا بے حس کے پگلتا ہی نہ تھا باتوں سے
آدمی تھا کہ تراشا ہوا پھتر دیکھا
(126)
محبت ہو چُکی پوُری
چلو اِب زخم گِِِنتے ہیں
(127)
جب کبھی خود کو یہ سمجھاوں کے تو میرا نہیں
مجھ میں کوئی چیخ اُٹھتا ہے نہیں ایسا نہیں
(128)
موقع جیسے بھی ملا وہ پیتا چلا گیا
شاہد بہت مٹھاس ہمھارے آہوں میں تھی
(129)
ویسے تو نہیں ملتے چلو کر لیں بہانہ
سینے سے لگ کے میرے کہو عید مبارک
(130)
عید کی چوڑیاں لے آو گی جب تم
نہ ہو کوئی پہنانے والا تو مجھے یاد کرنا
(131)
دستور ہے دنیا کا مگر یہ تو بتاوُ
ہم کس سے ملیں کس سے کہیں عید مبارک
(132)
عید کا چاند کو دیکھو تو روک لو آنسو
جو ہو سکے تو محبت کا احترم کرو
(132)
عید آئی ہے سُلگتی ہوئی یادیں لے کر
آج پھر اپنی اُداسی پہ ترس آیا ہے
------