کہانی کیسے بنا رہے ہیں
لہو کسی کا بہا رہے ہیں
یہ پیارے پیارے گلاب چہرے
کسی کو ظا لم اٹھا رہے ہیں
رہا ہے مشکل اگرچہ جینا
چمن کسی کا جلا رہے ہیں
عجیب دن ہیں، عجیب راتیں
یہ کون گلشن جلا رہے ہیں
کسی کا بستہ ہی کھو گیا ہے
ہے ساتھ کوئی اٹھا رہے ہیں
قصور کیا تھا کوئی بتائے
وہ نوحہ بن کے رلا رہا ہے
سبھی یہ وشمہ سوال ٹھہرے
یہ مانگے جو اب اٹھا رہے ہیں