مسمار ہو رہا ہے یہ قصرِ وفا یہاں

Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, malaysia

نکھری ہے زندگی مری خواہش کے بعد آج
یادوں کا اک ہجوم ہے بارش کے بعد آج

مسمار ہو رہا ہے یہ قصرِ وفا یہاں
وہ جا رہا ہے دل میں رہائش کے بعد آج

یہ کس نے آ کے بامِ سماعت سے دی صدا
یہ کون آ گیا ہے گزارش کے بعد آج

بے چہرہ زندگی ترے خوابوں کے درمیاں
مشہور ہو گئی ہے نمائش کے بعد آج

سہما ہوا ہے دشمنِ جاں وشمہ دیکھئے
ناکام ہو گیا ہے وہ سازش کے بعد آج

Rate it:
Views: 486
24 Jul, 2016
More Sad Poetry