میری زندگی سے لڑائی کیا تھی
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaمیری انتہا کیا تھی
میری سدا کیا تھی
تجھے میں کیا بتاؤں
کہ میری دعا کیا تھی
میرے وہ لفظ کیا تھے
میرے وہ اشک کیا تھے
تجھے میں کیا بتاؤں
کہ میرے زخم کیا تھے
میری بےبسی کیا تھی
میری ہنسی کیا تھی
تجھے میں کیا بتاؤں
کہ میری الجھن کیا تھی
میرا انتظار کیا تھا
میرا قرار کیا تھا
تجھے میں کیا بتاؤں
کہ میرا پیار کیا تھا
میری ُامید کیا تھی
میری وہ دید کیا تھی
تجھے میں کیا بتاؤں
کہ اس دل پے تیری جگیر کیا تھی
میری وہ بات کیا تھی
ہجرے غم کی وہ شام کیا تھی
تجھے میں کیا بتاؤں
کہ میری زندگی سے لڑائی کیا تھی
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






