“ پریم کی شکتی “
Poet: Haji Abul Barkat,poet By: Haji Abul Barkat,Poet/Columnist, Karachi “ پریم کی سکتی “
(نظم برائے “ امن “ ہندوستان و پاکستان کے درمیان )
شاعر فی البدیہہ، حاجی ابوالبرکات
××××××
پورب دیکھا ، پچھم دیکھا ، دیکھا دکھن اور اُ تر
ہند و پاک کے سنت و پیراں ہیں اعلٰی اور برتر
پورب جاکر دیکھا ہم نے سَنتوں ، پیروں کی سرکار
جگن ناتھ ، کالی ، نعمت و بسطامی جس کے پہرے دار
پچھم آکر دیکھا ہم نے ظلم نہ کوئی بلوہ ہے
شمس، لطیف ، صوفی، داتا اور نانک جی کا جلوہ ہے
دکھن جا کر دیکھا ہم نے خواجہ کی نگری کو آباد
ہندو، مسلم ، سکھ ،عیسائی کرتے ہیں اپنے دل کوشاد
اُ تر میں دیکھا کوہ ہمالیہ ، گود میںجس کے گوتم ہے
ہند و پاک کی طاقت تو لو ، دنیا میں یہ کس سے کم ہے
چاروں طرف ہیں پریم کے رکھشک،دورکئےشیطانی زور
مرکز میں بیٹھے نظام سائیں تھامے چاروں اُور کی ڈور
اسیر واد ان مہاتمائوں کی ہوآشا امن کی وشواش بنے
آزادی اور یکتائی میں دونوں دیسوں کی سانس چلے
ہاتھوں میں ڈال کر ہاتھ بڑھیں ، لب پر پریم کا نعرہ ہو
دور رہے لالچ و بدگمانی بس سکھ و شانتی کا سہارا ہو
××××××××××
یہ نظم ٹائم آف انڈیا اور اردو لنک امریکہ میں شائع ہو چکی ہے-
جسے انڈیا ٹائم نے ١٨ فروری ٢٠١٠ کو ٹوپ کامینٹس قرار دیا تھا-
چونکہ صدر مملکت جناب آصف علی ذرداری ٨ اپریل ٢٠١٢ کو ہندوستان
کے دورے پر اجمیر شریف جا رہے ہیں اس لئے ہماری ویب کے قارئین
کے لئے حاضر ہے-
امید بر آئیں گی مگر افسوس ایسا ہو نہ سکا
ہے نیا جذبہ ہے نیا ولولہ ان کے اندر عجیب طرح
گول ہوتے نہیں ان کھلاڑیوں سے نمائندوں کی طرح
رفتہ رفتہ یہ کھلاڑی ڈھل چکے ہیں زوال کی جانب
نظر نہیں آتی ان کو بھی گول کی کوئی صورت
ہے انجام سے غافل ہر طرح کے چیمپین بھی
انکل سیم کے حواری بھی ہیں بدمست ہاتھی
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
ہم تو ووٹ مانگیں تو وعدے ہی سناتے ہیں
شہر کے نگہبانوں کی نیتیں نرالی ہیں
چوریاں بھی کرتے ہیں، شور بھی مچاتے ہیں
عدل کے ایوانوں میں کھیل عجب چلتا ہے
فیصلے وہی ہوتے جو جی کو بھاتے ہیں
اہلِ اقتدار آخر کتنے سادہ ہوتے ہیں
اپنی ہی خطاؤں کو دوسروں پہ ڈھاتے ہیں
درسِ صداقتیں سب دیتے ہیں بڑی شان سے
خود مگر ضرورت پر رنگ ہی بدلاتے ہیں
اہلِ علم بیٹھے ہیں بحث کے مناظرے میں
سچ کی بات آئے تو رخ ہی بدل جاتے ہیں
وشمہ اس زمانے کا حال کیا سنائیں ہم
لوگ سچ کی قیمت پر جھوٹ ہی کماتے ہیں
مصلحت کے قلم سے لکھتے ہیں
بندگی کی سند جبیں پر لوگ
خاکِ دیر و حرم سے لکھتے ہیں
وہی اگلے جنم میں لکھّیں گے
جو وہ پچھلے جنم سے لکھتے ہیں
اپنی رودادِ جادہ پیمائی
ہم تو نقشِ قدم سے لکھتے ہیں
آجکل لوگ داستانِ حیات
خامۂ رنج و غم سے لکھتے ہیں
حال دل ہم جو لکھتے ہیں شاعرؔ
فکر و فن کے قلم سے لکھتے ہیں
کون ہے جو ایسے رستے پر جینے کا اقرار کرے
جو بھی سمجھ لے وقت کی سازش لوگوں کو ہشیار کرے
روزن روزن آنکھیں رکھ دے بات پسِ دیوار کرے
قطرہ قطرہ رات گھلی ہے نیند سے ترسی آنکھوں میں
کوئی اٹھے اور گلیوں گلیوں خوابوں کا بیو پار کرے
زندہ ہو تو احساسِ غزل سے جان چھڑانی مشکل ہے
جیسے کوئی ضدی بچہ سونے سے انکار کرے
کچھ نعرے کچھ درسِ بغاوت شہروں کی دیواروں پر
سناّٹا تحریک چلائے ہنگامہ بازار کرے
شاعرِ بغاوت کے گیتوں کی جو آواز ابھرتی ہے
لفظوں میں شعلوں کی لپک ہے لحظہ بھی جھنکار کرے
کوئی صلہ تو سرِ اختیار دینا تھا
اسے بھی زخم کوئی مستعار دینا تھا
اسے کسی نے تو کافر قرار دینا تھا
وہ برگزیدہ شجر لڑ رہا تھا موسم سے
کہ پھولنا تھا اسے برگ و بار دینا تھا
یہ وہ زمین تھی جو آسماں سے اتری تھی
یہ وہ حوالہ تھا جو بار بار دینا تھا
چھپا کے سب سے ہی اپنا نام اور نشاں
سرِ صلیب کوئی اشتہار دینا تھا






