خودی

Poet: از سرِ نَو منیر یوسف By: MUNIR YOUSAF, Lahore

میں جب یہاں سے چلا جاؤں گا
میں پھر خود کو ملنے آؤں گا

کچھ سوال جو رہ گئے تھے
میں پھر خود سے کرنے آؤں گا

کیسی گزری تری عارضی زندگی
میں ایسے سوال پوچھنے آؤں گا

مجھے پتہ ہے تم غمزدہ ہو جاؤ گے
میں جب یہ سب کہنے تم سے آؤں گا

جو کی تھی تم نے کوتاہیاں
میں تمہیں وہ یاد کرانے آؤں گا

تم پھرتے تھے بند آنکھیں لیے
میں پھر تمہیں تمہارا عکس دیکھانے آؤں گا

گراتے تھے تم ظلم کے پہاڑ دنیا میں
میں تمہاری طاقت کا اندازہ لگانے آؤں گا

پتہ ہے مٹی کے ڈھیر ہو جاؤ گے تم
میں تمہیں تمہارا انجام بتانے آؤں گا

میں جب یہاں سے چلا جاؤں گا
میں پھر خود سے ملنے آؤں گا

Rate it:
Views: 1126
26 May, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL