(افسانہ میرے بچپن کا)ازاد نظم
Poet: Gohar ali Dilsooz By: Gohar ali Dilsooz, Karachi مادرِ عزیزم صد احترام
اور بڑے معذرت کے ساتھ
میری اک التجا ہے
میری مجبوری کو سمجھنے کی کوشش کرنا
کہ جب بچپن میں خواہش کرتا تھا،
کھلونوں کا،اُن سے کھیلنے کا
اک حوس ہوتا تھا میرے اندر
کہ جہسے دوسروں کے پاس ہے
اسطرح میرے پاس بھی ہو!
اور ہاں میرا انتہا کا جنون تھا۔۔
شاید کہ تمہیں یاد ہو گا!
کہ مجھے انڈہ کھانے کا بہت شوق تھا
میری خواہش ہوتی تھی کہ اگر کھاوں تو بس صرف انڈہ ہی کھاتا رہوں
وہ اک حوس تھا میرے بچپن کا۔۔۔۔۔۔۔مگر!!!!
اور ہاں تمہارے ہاتھ کے بُننے ہو ئے بنیان۔۔
جو مجھے بہت عزیز تھے،
کہ میں بھی پہنوں اپنے ماں کے ہاتھ کے پُننے ہوئے بنیان،
جیسے کے دوسروں کے بچے پہنتے ہیں۔۔۔مگر کبھی نصیب نہیں ہوئے!!
اور ہاں اپ کا مجھ پر بڑا ناز تھا
میری ہوشیاری پر اور میری ہونہاری پر
اور ہاں میری ماں مجھے وہ اوقات بہت اچھی طرح یاد ہیں
جب میں اسکول جاتا تھا
تو صبح نکلتے ہوئے میرا پیٹ خالی ہوتا تھا
گرچہ کپڑے اور جوتے پہنے ہوتے تھے
وہ بھی نہیں اپنے ہوتے!!!
یہ سب وقت کی ستم ظریفی جو اپنی جگہ ہے
مگر اک سوال اپ سے
اور اپنے باپ سے ہے
کہ جب کبھی شازو نادر کوئی چیز مُیسر ہوتا تھا۔۔
تو دوسروں کی نسبت مجھے محروم کیوں رکھتے تھے؟؟؟؟
کیوں دوسروں کو ترجیح دیتے تھے؟؟؟؟
اب یہ خواہش کیسے جاگی ہے کہ!
ہر چیز بہتر میں کھاوں ! اور ہر چیز خوب تر میں پہنوں!
جبکہ میرا پیٹ بھرا ہوا ہے ۔۔۔۔
اور میرا تن پھی پوشیدہ ہے۔۔
میں تو لبریز ہوں دُنیاوی ہر لوازم سے!
مہربانی اب ان کو سنبھالیں۔۔!
مُجھے دُعا چاہیئے بس!!
صرف اب کی دُعا،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






