“جاگ رے سندھی جاگ“
Poet: مدثر چوہدری By: مدثر چوہدری, Londonجاگ رے سندھی جاگ
نا جعلی بھٹو کے پیچھے بھاگ
یہ بھٹو نہیں زرداری ہیں
یہ بازیگر اور مداری ہیں
نا پی پی کے محافظ ہیں نہ بی بی کے وارث ہیں
یہ مرتضی کے مجرم ہیں بینظیر کے قاتل ہیں
یہ سب ہیے انہیں کی مایا لاگ
جاگ رے سندھی جاگ
نا جعلی بھٹو کے پیچھے بھاگ
یہ آتے ہیں لوٹتے ہیں چلے جاتے ہیں
یہ پھر آئے ہیں لوٹیں گے پھر چلے جائیں گے
تم یونہی انہیں ووٹ دیتے رھوگے
پھر یونہی منہ لٹکائے روتے رھوگے
کیوں پڑے ھو صدیوں سے مانند ریت
تم سے تو زورآور ہیے سمندر کی جھاگ
جاگ رے سندھی جاگ
نا جعلی بھٹو کے پیچھے بھاگ
اب وقت ہیے باغی ہونے کا
اب وقت ہیے بدلہ لینے کا
اب وقت نہیں ہیے ڈرنے کا
اب وقت ہیے آگے بڑھنے کا
اب وقت ہیے وقت بدلنے کا
اب لگ چکا اس قوم کو تبدیلی کا جاگ
جاگ رے سندھی جاگ
نا جعلی بھٹو کے پیچھے بھاگ
اب تو اٹھ جا سندھی بھائی اب نہ اٹھو گے تو کب اٹھو گے
جب لٹ جائے گا سارا وطن’ یہ پوچھتا ہیے کیا تب اٹھو گے
تب دھرتی ماں بھی روتی ھوگی
بہتے آنسو پونچھتی ھوگی
پوچھتی ھوں گی اسکی آنکھیں
اب نا جگو گے تو کب جگو گے
جاگ رے سندھی جاگ
نا جعلی بھٹو کے پیچھے بھاگ
““To my Sindhi brothers & sisters in the honour of ‘Larkana Jalsa’ on 21st November 2014″
امید بر آئیں گی مگر افسوس ایسا ہو نہ سکا
ہے نیا جذبہ ہے نیا ولولہ ان کے اندر عجیب طرح
گول ہوتے نہیں ان کھلاڑیوں سے نمائندوں کی طرح
رفتہ رفتہ یہ کھلاڑی ڈھل چکے ہیں زوال کی جانب
نظر نہیں آتی ان کو بھی گول کی کوئی صورت
ہے انجام سے غافل ہر طرح کے چیمپین بھی
انکل سیم کے حواری بھی ہیں بدمست ہاتھی
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
ہم تو ووٹ مانگیں تو وعدے ہی سناتے ہیں
شہر کے نگہبانوں کی نیتیں نرالی ہیں
چوریاں بھی کرتے ہیں، شور بھی مچاتے ہیں
عدل کے ایوانوں میں کھیل عجب چلتا ہے
فیصلے وہی ہوتے جو جی کو بھاتے ہیں
اہلِ اقتدار آخر کتنے سادہ ہوتے ہیں
اپنی ہی خطاؤں کو دوسروں پہ ڈھاتے ہیں
درسِ صداقتیں سب دیتے ہیں بڑی شان سے
خود مگر ضرورت پر رنگ ہی بدلاتے ہیں
اہلِ علم بیٹھے ہیں بحث کے مناظرے میں
سچ کی بات آئے تو رخ ہی بدل جاتے ہیں
وشمہ اس زمانے کا حال کیا سنائیں ہم
لوگ سچ کی قیمت پر جھوٹ ہی کماتے ہیں
مصلحت کے قلم سے لکھتے ہیں
بندگی کی سند جبیں پر لوگ
خاکِ دیر و حرم سے لکھتے ہیں
وہی اگلے جنم میں لکھّیں گے
جو وہ پچھلے جنم سے لکھتے ہیں
اپنی رودادِ جادہ پیمائی
ہم تو نقشِ قدم سے لکھتے ہیں
آجکل لوگ داستانِ حیات
خامۂ رنج و غم سے لکھتے ہیں
حال دل ہم جو لکھتے ہیں شاعرؔ
فکر و فن کے قلم سے لکھتے ہیں
کون ہے جو ایسے رستے پر جینے کا اقرار کرے
جو بھی سمجھ لے وقت کی سازش لوگوں کو ہشیار کرے
روزن روزن آنکھیں رکھ دے بات پسِ دیوار کرے
قطرہ قطرہ رات گھلی ہے نیند سے ترسی آنکھوں میں
کوئی اٹھے اور گلیوں گلیوں خوابوں کا بیو پار کرے
زندہ ہو تو احساسِ غزل سے جان چھڑانی مشکل ہے
جیسے کوئی ضدی بچہ سونے سے انکار کرے
کچھ نعرے کچھ درسِ بغاوت شہروں کی دیواروں پر
سناّٹا تحریک چلائے ہنگامہ بازار کرے
شاعرِ بغاوت کے گیتوں کی جو آواز ابھرتی ہے
لفظوں میں شعلوں کی لپک ہے لحظہ بھی جھنکار کرے
کوئی صلہ تو سرِ اختیار دینا تھا
اسے بھی زخم کوئی مستعار دینا تھا
اسے کسی نے تو کافر قرار دینا تھا
وہ برگزیدہ شجر لڑ رہا تھا موسم سے
کہ پھولنا تھا اسے برگ و بار دینا تھا
یہ وہ زمین تھی جو آسماں سے اتری تھی
یہ وہ حوالہ تھا جو بار بار دینا تھا
چھپا کے سب سے ہی اپنا نام اور نشاں
سرِ صلیب کوئی اشتہار دینا تھا






