جس نے زخم دیے تھے، وہی مسیحا ٹھہرا

Poet: مظہرؔ اِقبال گوندَل By: MAZHAR IQBAL GONDAL, Karachi

جس نے زخم دیے تھے، وہی مسیحا ٹھہرا
کیا زمانہ آیا ہے، درد بھی تمھارے ہیں

خود ہی خواب دیکھے تھے، خود ہی توڑ ڈالے
آئینہ بھی رویا ہے، عکس اب ہمارے ہیں

بزم میں جو ہنستے تھے، دل میں رو رہے تھے ہم
زخم چھپ کے کہتے ہیں، ہاں وہی ہمارے ہیں

جو وفا نبھاتے ہیں، وقت میں جُھلس جاتے
پھول اب نہیں کھلتے، موسموں کے وارے ہیں

جب وفا کی قیمت پر، لوگ سود کرتے ہوں
پھر سکوت بہتر ہے، لفظ سب گزارے ہیں

بے وفا جو ٹھہرے تھے، نام تھا وفاؤں کا
مظہرؔؔ ان فریبوں میں، سچ بھی اب خسارے ہیں

Rate it:
Views: 181
01 Feb, 2026
More Sad Poetry