لاحاصل
Poet: Irfan Ali By: Irfan Ali, Rawalpindi مانگتاہے وہ جو لاحاصل ہے
یہ اپنا دل تو اپنا قاتل ہے
عشق کر بندے اپنے مالک سے
بھلا کوئی انسان بھی اس قابل ہے
بتوں کی کشش نے ایمان کھینچ ڈالا
ہائے انسان سن تو کتنا پاگل ہے
آنکھ دیکھے اسے جسے زوال ہے
نہ ٹھہرے نظر جو لا زوال ہے
حسن زن پہ تیرا کامل یقین ہے
دیکھ ادھر رب کتنا حسین ہے
یار کی جفا شایدرب کا انتقام تھا
دیا کیوں وہ دل جو رب کا مقام تھا
اے کاش پالوں اسے اکثر سوچتا تھا
یہ دعائیں میں شب روز مانگتا تھا
وجہ یہی ہے کہ میں پانہ سکا اسےعرفان
میں اسے چاہتا تھا رب مجھے چاہتا تھا
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






